1
ان کے چہرۂ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رخِ (انور) موڑ لیا،
2
اس وجہ سے کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا (جس نے آپ کی بات کو ٹوکا)،
3
اور آپ کو کیا خبر شاید وہ (آپ کی توجہ سے مزید) پاک ہو جاتا،
4
یا (آپ کی) نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اس کو (اور) فائدہ دیتی،
5
لیکن جو شخص (دین سے) بے پروا ہے،
6
تو آپ اس کے (قبولِ اسلام کے) لیے زیادہ اہتمام فرماتے ہیں،
7
حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری (کا بوجھ) نہیں اگرچہ وہ پاکیزگی (ایمان) اختیار نہ بھی کرے،
8
اور وہ جو آپ کے پا س (خود طلبِ خیر کی) کوشش کرتا ہوا آیا،
9
اور وہ (اپنے رب سے) ڈرتا بھی ہے،
10
تو آپ اُس سے بے توجہی فرما رہے ہیں،
11
(اے حبیبِ مکرّم!) یوں نہیں بیشک یہ (آیاتِ قرآنی) تو نصیحت ہیں،
12
جو شخص چاہے اسے قبول (و اَزبر) کر لے،
13
(یہ) معزّز و مکرّم اوراق میں (لکھی ہوئی) ہیں،
14
جو نہایت بلند مرتبہ (اور) پاکیزہ ہیں،
15
ایسے سفیروں (اور کاتبوں) کے ہاتھوں سے (آگے پہنچی) ہیں،
16
جو بڑے صاحبانِ کرامت (اور) پیکرانِ طاعت ہیں،
17
ہلاک ہو (وہ بد بخت منکر) انسان کیسا نا شکرا ہے (جو اتنی عظیم نعمت پا کر بھی اس کی قدر نہیں کرتا)،
18
اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے،
19
نطفہ میں سے اس کو پیدا فرمایا، پھر ساتھ ہی اس کا (خواص و جنس کے لحاظ سے) تعین فرما دیا،
20
پھر (تشکیل، ارتقاء اور تکمیل کے بعد بطنِ مادر سے نکلنے کی) راہ اس کے لئے آسان فرما دی،
21
پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں (دفن) کر دیا گیا،
22
پھر جب وہ چاہے گا اسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کرے گا،
23
یقیناً اس (نافرمان انسان) نے وہ (حق) پورا نہ کیا جس کا اسے (اللہ نے) حکم دیا تھا،
24
پس انسان کو چاہیے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے (اور غور کرے)،
25
بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا،
26
پھر ہم نے زمین کو پھاڑ کر چیر ڈالا،
27
پھر ہم نے اس میں اناج اگایا،
Sonraki 12 ayet →