1
یہ لوگ آپس میں کس (چیز) سے متعلق سوال کرتے ہیں،
2
(کیا) اس عظیم خبر سے متعلق (پوچھ گچھ کر رہے ہیں)،
3
جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں،
4
ہرگز (وہ خبر لائقِ انکار) نہیں! وہ عنقریب (اس حقیقت کو) جان جائیں گے،
5
(ہم) پھر (کہتے ہیں: اختلاف و انکار) ہرگز (درست) نہیں! وہ عنقریب جان جائیں گے،
6
کیا ہم نے زمین کو (زندگی کے) قیام اور کسب و عمل کی جگہ نہیں بنایا،
7
اور (کیا) پہاڑوں کو (اس میں) ابھار کر کھڑا (نہیں) کیا،
8
اور (غور کرو) ہم نے تمہیں (فروغِ نسل کے لئے) جوڑا جوڑا پیدا فرمایا (ہے)،
9
اور ہم نے تمہاری نیند کو (جسمانی) راحت (کا سبب) بنایا (ہے)،
10
اور ہم نے رات کو (اس کی تاریکی کے باعث) پردہ پوش بنایا (ہے)،
11
اور ہم نے دن کو (کسبِ) معاش (کا وقت) بنایا (ہے)،
12
اور (اب خلائی کائنات میں بھی غور کرو) ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (طبقات) بنائے،
13
اور ہم نے (سورج کو) روشنی اور حرارت کا (زبردست) منبع بنایا،
14
اور ہم نے بھرے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا،
15
تاکہ ہم اس (بارش) کے ذریعے (زمین سے) اناج اور سبزہ نکالیں،
16
اور گھنے گھنے باغات (اگائیں)،
17
(ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھ کر جان لو کہ) بیشک فیصلہ کا دن (قیامت بھی) ایک مقررہ وقت ہے،
18
جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ (اﷲ کے حضور) چلے آؤ گے،
19
اور آسمان (کے طبقات) پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے،
20
اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) اڑا دیئے جائیں گے، سو وہ سراب (کی طرح کالعدم) ہو جائیں گے،
21
بیشک دوزخ ایک گھات ہے،
22
(وہ) سرکشوں کا ٹھکانا ہے،
23
وہ ختم نہ ہونے والی پے در پے مدتیں اسی میں پڑے رہیں گے،
24
نہ وہ اس میں (کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا،
25
سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی اور (دوزخیوں کے زخموں سے) بہتی ہوئی پیپ کے،
26
(یہی ان کی سرکشی کے) موافق بدلہ ہے،
27
اس لئے کہ وہ قطعًا حسابِ (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے،
28
اور وہ ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا کرتے تھے،
29
اور ہم نے ہر (چھوٹی بڑی) چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے،
30
(اے منکرو!) اب تم (اپنے کئے کا) مزہ چکھو (تم دنیا میں کفر و سرکشی میں بڑھتے گئے) اب ہم تم پر عذاب ہی کو بڑھاتے جائیں گے،
Sonraki 10 ayet →