1
تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا، پھر بھی کافر لوگ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں،
2
(اﷲ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا (یعنی کرّۂ اَرضی پر حیاتِ انسانی کی کیمیائی ابتداء اس سے کی)۔ پھر اس نے (تمہاری موت کی) میعاد مقرر فرما دی، اور (انعقادِ قیامت کا) معیّنہ وقت اسی کے پاس (مقرر) ہے پھر (بھی) تم شک کرتے ہو،
3
اور آسمانوں میں اور زمین میں وہی اﷲ ہی (معبودِ برحق) ہے، جو تمہاری پوشیدہ اور تمہاری ظاہر(سب باتوں) کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کما رہے ہو وہ (اسے بھی) جانتا ہے،
4
اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں،
5
پھر بیشک انہوں نے (اسی طرح) حق (یعنی قرآن) کو (بھی) جھٹلا دیا جب وہ ان کے پاس (اُلوہی نشانی کے طور پر) آیا، پس عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آیا چاہتی ہیں جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،
6
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جنہیں ہم نے زمین میں (ایسا مستحکم) اقتدار دیا تھا کہ ایسا اقتدار (اور جماؤ) تمہیں بھی نہیں دیا اور ہم نے ان پر لگا تار برسنے والی بارش بھیجی اور ہم نے ان (کے مکانات و محلّات) کے نیچے سے نہریں بہائیں پھر (اتنی پُرعشرت زندگی دینے کے باوجود) ہم نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری اُمتوں کو پیدا کیا،
7
اور ہم اگر آپ پر کاغذ پہ لکھی ہوئی کتاب نازل فرما دیتے پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب (بھی) کافر لوگ (یہی) کہتے کہ یہ صریح جادو کے سوا (کچھ) نہیں،
8
اور وہ (کفّار) کہتے ہیں کہ اس (رسولِ مکرّم) پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا (جسے ہم ظاہراً دیکھ سکتے اور وہ ان کی تصدیق کردیتا)، اور ہم اگر فرشتہ اتار دیتے تو (ان کا) کام ہی تمام ہوچکا ہوتا پھر انہیں (ذرا بھی) مہلت نہ دی جاتی،
9
اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے بھی آدمی ہی (کی صورت) بناتے اور ہم ان پر(تب بھی) وہی شبہ وارد کردیتے جو شبہ (و التباس) وہ (اب) کر رہے ہیں (یعنی اس کی بھی ظاہری صورت دیکھ کر کہتے کہ یہ ہماری مثل بشر ہے)،
10
اور بیشک آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا، پھر ان میں سے مسخرہ پن کرنے والوں کو(حق کے) اسی (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،
11
فرمادیجئے کہ تم زمین پر چلو پھرو، پھر (نگاہِ عبرت سے) دیکھو کہ (حق کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا،
12
آپ (ان سے سوال) فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے؟ (پھر یہ بھی) فرما دیں کہ اﷲ ہی کا ہے، اس نے اپنی ذات پر رحمت لازم فرمالی ہے، وہ تمہیں روزِ قیامت جس میں کوئی شک نہیں ضرور جمع فرمائے گا، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
13
اور وہ (ساری مخلوق) جو رات میں اور دن میں آرام کرتی ہے، اسی کی ہے، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،
14
فرما دیجئے: کیا میں کسی دوسرے کو (عبادت کے لئے اپنا) دوست بنا لوں (اس) اﷲ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (خود اسے) کھلایا نہیں جاتا۔ فرما دیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حضور) سب سے پہلا (سرجھکانے والا) مسلمان ہوجاؤں اور (یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ) تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا،
15
فرما دیجئے کہ بیشک میں (تو) بڑے عذاب کے دن سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں (سو یہ کیسے ممکن ہے؟)،
16
اس دن جس شخص سے وہ (عذاب) پھیر دیا گیا تو بیشک (اﷲ نے) اس پر رحم فرمایا، اور یہی (اُخروی بخشش) کھلی کامیابی ہے،
17
اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،
18
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہ بڑی حکمت والا خبردار ہے،
19
آپ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ گواہی دینے میں سب سے بڑھ کر کون ہے؟ آپ (ہی) فرما دیجئے کہ اﷲ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو جس تک (یہ قرآن) پہنچے ڈر سناؤں۔ کیا تم واقعی اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اﷲ کے ساتھ دوسرے معبود (بھی) ہیں؟ آپ فرما دیں: میں (تو اس غلط بات کی) گواہی نہیں دیتا، فرما دیجئے: بس معبود تو وہی ایک ہی ہے اور میں ان(سب) چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہو،
20
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی اس (نبئ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ویسے ہی پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
21
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جس نے اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھا یا اس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا؟ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے،
22
اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کرتے تھے: تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھے،
23
پھر ان کی (کوئی) معذرت نہ رہے گی بجز اس کے کہ وہ کہیں (گے): ہمیں اپنے رب اﷲ کی قَسم ہے! ہم مشرک نہ تھے،
24
دیکھئے انہوں نے خود اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو بہتان وہ (دنیا میں) تراشا کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوگیا،
25
اور ان میں کچھ وہ (بھی) ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر(ان کی اپنی بدنیتی کے باعث) پردے ڈال دیئے ہیں (سو اب ان کے لئے ممکن نہیں) کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ سکیں اور (ہم نے) ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے، اور اگر وہ تمام نشانیوں کو (کھلا بھی) دیکھ لیں تو (بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حتیٰ کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں، آپ سے جھگڑا کرتے ہیں (اس وقت) کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیوں کے سوا (کچھ) نہیں،
26
اور وہ (دوسروں کو) اس (نبی کی اتباع اور قرآن) سے روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے دور بھاگتے ہیں، اور وہ محض اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور وہ (اس ہلاکت کا) شعور (بھی) نہیں رکھتے،
27
اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ آگ (کے کنارے) پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے: اے کاش! ہم (دنیا میں) پلٹا دیئے جائیں تو (اب) ہم اپنے رب کی آیتوں کو (کبھی) نہیں جھٹلائیں گے اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں گے،
28
(اس اقرار میں کوئی سچائی نہیں) بلکہ ان پر وہ (سب کچھ) ظاہر ہوگیا ہے جو وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، اور اگر وہ (دنیا میں) لوٹا (بھی) دیئے جائیں تو (پھر) وہی دہرائیں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اور بیشک وہ (پکے) جھوٹے ہیں،
29
اور وہ (یہی) کہتے رہیں گے (جیسے انہوں نے پہلے کہا تھا) کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا (اور) کوئی (زندگی) نہیں اور ہم (مرنے کے بعد) نہیں اٹھائے جائیں گے،
30
اور اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، (اور انہیں) اﷲ فرمائے گا: کیا یہ (زندگی) حق نہیں ہے؟ (تو) کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (یہ حق ہے، پھر) اﷲ فرمائے گا: پس (اب) تم عذاب کا مزہ چکھو اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے،
Sonraki 30 ayet →