2
اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسم،
3
(جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)،
4
اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قَسم،
5
اور اونچی چھت (یعنی بلند آسمان یا عرشِ معلٰی) کی قَسم،
6
اور اُبلتے ہوئے سمندر کی قَسم،
7
بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا،
8
اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،
9
جس دن آسمان سخت تھر تھراہٹ کے ساتھ لرزے گا،
10
اور پہاڑ (اپنی جگہ چھوڑ کر بادلوں کی طرح) تیزی سے اڑنے اور (ذرّات کی طرح) بکھرنے لگیں گے،
11
سو اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے،
12
جو باطل (بے ہودگی) میں پڑے غفلت کا کھیل کھیل رہے ہیں،
13
جس دن کو وہ دھکیل دھکیل کر آتشِ دوزخ کی طرف لائے جائیں گے،
14
(اُن سے کہا جائے گا:) یہ ہے وہ جہنّم کی آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،
15
سو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھائی نہیں دیتا،
16
اس میں داخل ہو جاؤ، پھر تم صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمہیں صرف انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے،
17
بیشک متّقی لوگ بہشتوں اور نعمتوں میں ہوں گے،
18
خوش اور لطف اندوز ہوں گے اُن (عطاؤں) سے جن سے اُن کے رب نے انہیں نوازا ہوگا، اور اُن کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا،
19
(اُن سے کہا جائے گا:) تم اُن (نیک) اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے رہے تھے خوب مزے سے کھاؤ اور پیو،
20
وہ صف در صف بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے، اور ہم گوری رنگت (اور) دلکش آنکھوں والی حوروں کو اُن کی زوجیت میں دے دیں گے،
21
اور جو لوگ ایمان لائے اور اُن کی اولاد نے ایمان میں اُن کی پیروی کی، ہم اُن کی اولاد کو (بھی) (درجاتِ جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے (خواہ اُن کے اپنے عمل اس درجہ کے نہ بھی ہوں یہ صرف اُن کے صالح آباء کے اکرام میں ہوگا) اور ہم اُن (صالح آباء) کے ثوابِ اعمال سے بھی کوئی کمی نہیں کریں گے، (علاوہ اِس کے) ہر شخص اپنے ہی عمل (کی جزا و سزا) میں گرفتار ہوگا،
22
اور ہم انہیں پھل (میوے) اور گوشت، جو وہ چاہیں گے زیادہ سے زیادہ دیتے رہیں گے،
23
وہاں یہ لوگ جھپٹ جھپٹ کر (شرابِ طہور کے) جام لیں گے، اس (شرابِ جنت) میں نہ کوئی بے ہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ گاری ہوگی،
24
اور نوجوان (خدمت گزار) اُن کے اِردگرد گھومتے ہوں گے، گویا وہ غلاف میں چھپائے ہوئے موتی ہیں،
25
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم پرسشِ احوال کریں گے،
26
وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں (عذابِ الٰہی سے) ڈرتے رہتے تھے،
27
پس اﷲ نے ہم پر احسان فرما دیا اور ہمیں نارِ جہنّم کے عذاب سے بچا لیا،
28
بیشک ہم پہلے سے ہی اُسی کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،
29
سو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ نصیحت فرماتے رہیں پس آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے نہ تو کاہن (یعنی جنّات کے ذریعے خبریں دینے والے) ہیں اور نہ دیوانے،
30
کیا (کفّار) کہتے ہیں: (یہ) شاعر ہیں؟ ہم اِن کے حق میں حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں؟،
Sonraki 19 ayet →