1
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
3
بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،
4
اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے،
5
ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں،
6
(یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،
7
آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے (اُس کا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو،
8
اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا (بھی) رب ہے،
9
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں،
10
سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،
11
جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا (یعنی ہر طرف محیط ہو جائے گا)، یہ دردناک عذاب ہے،
12
(اس وقت کہیں گے:) اے ہمارے رب! تو ہم سے (اس) عذاب کو دور کر دے، بیشک ہم ایمان لاتے ہیں،
13
اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آچکے،
14
پھر انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور (گستاخی کرتے ہوئے) کہنے لگے: (وہ) سکھایا ہوا دیوانہ ہے،
15
بیشک ہم تھوڑا سا عذاب دور کئے دیتے ہیں تم یقیناً (وہی کفر) دہرانے لگو گے،
16
جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو (اس دن) ہم یقیناً انتقام لے ہی لیں گے،
17
اور در حقیقت ہم نے اِن سے پہلے قومِ فرعون کی (بھی) آزمائش کی تھی اور اُن کے پاس بزرگی والے رسول (موسٰی علیہ السلام) آئے تھے،
18
(انہوں نے کہا تھا) کہ تم بندگانِ خدا (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لئے امانت دار رسول ہوں،
19
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس روشن دلیل لے کر آیا ہوں،
20
اور بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگ سار کرو،
21
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤ،
22
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ بیشک یہ لوگ مجرم قوم ہیں،
23
(ارشاد ہوا:) پھر تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،
24
اور (خود گزر جانے کے بعد) دریا کو ساکن اور کھلا چھوڑ دینا، بیشک وہ ایسا لشکر ہے جسے ڈبو دیا جائے گا،
25
وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے،
26
اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں،
27
اور نعمتیں (اور راحتیں) جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے،
28
اسی طرح ہوا، اور ہم نے اِن سب کا دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیا،
29
پھر نہ (تو) اُن پر آسمان اور زمین روئے اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی،
30
اور واقعتہً ہم نے بنی اسرائیل کو ذِلّت انگیز عذاب سے نجات بخشی،
Sonraki 29 ayet →