1
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
3
بیشک ہم نے اسے عربی (زبان) کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ سمجھ سکو،
4
بیشک وہ ہمارے پاس سب کتابوں کی اصل (لوحِ محفوظ) میں ثَبت ہے یقیناً (یہ سب کتابوں پر) بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہے،
5
اور کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اِس بنا پر روک دیں کہ تم حد سے گزر جانے والی قوم ہو،
6
اور پہلے لوگوں میں ہم نے کتنے ہی پیغمبر بھیجے تھے،
7
اور کوئی نبی اُن کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کا مذاق اڑایا کرتے تھے،
8
اور ہم نے اِن (کفّارِ مکہ) سے زیادہ زور آور لوگوں کو ہلاک کر دیا اور اگلے لوگوں کا حال (کئی جگہ پہلے) گزر چکا،
9
اور اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کِس نے پیدا کیا تو وہ یقیناً کہیں گے کہ انہیں غالب، علم والے (رب) نے پیدا کیا ہے،
10
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزلِ مقصود تک پہنچ سکو،
11
اور جس نے آسمان سے اندازۂ (ضرورت) کے مطابق پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مُردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح تم (بھی مرنے کے بعد زمین سے) نکالے جاؤ گے،
12
اور جس نے تمام اقسام و اصناف کی مخلوق پیدا کی اور تمہارے لئے کشتیاں اور بحری جہاز بنائے اور چوپائے بنائے جن پر تم (بحر و بر میں) سوار ہوتے ہو،
13
تاکہ تم ان کی پشتوں (یا نشستوں) پر درست ہو کر بیٹھ سکو، پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو، جب تم سکون سے اس (سواری کی نشست) پر بیٹھ جاؤ تو کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے اِس کو ہمارے تابع کر دیا حالانکہ ہم اِسے قابو میں نہیں لا سکتے تھے،
14
اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں،
15
اور اُن (مشرکوں) نے اس کے بندوں میں سے (بعض کو اس کی اولاد قرار دے کر) اس کے جزو بنا دیئے، بیشک انسان صریحاً بڑا ناشکر گزار ہے،
16
(اے کافرو! اپنے پیمانۂ فکر کے مطابق یہی جواب دو کہ) کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے (خود اپنے لئے تو) بیٹیاں بنا رکھی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مختص کر رکھا ہے،
17
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اُس (کے گھر میں بیٹی کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے جسے انہوں نے (خدائے) رحمان کی شبیہ بنا رکھا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور غم و غصّہ سے بھر جاتا ہے،
18
اور کیا (اللہ اپنے امور میں شراکت و معاونت کے لئے اسے اولاد بنائے گا) جو زیور و زینت میں پرورش پائے اور (نرمیٔ طبع اور شرم و حیاء کے باعث) جھگڑے میں واضح (رائے کا اظہار کرنے والی بھی) نہ ہو،
19
اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ (خدائے) رحمان کے بندے ہیں عورتیں قرار دیا ہے، کیا وہ اُن کی پیدائش پر حاضر تھے؟ (نہیں، تو) اب اُن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور (روزِ قیامت) اُن سے باز پُرس ہوگی،
20
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم اِن (بتوں) کی پرستش نہ کرتے، انہیں اِس کا (بھی) کچھ علم نہیں ہے وہ محض اَٹکل سے جھوٹی باتیں کرتے ہیں،
21
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ جسے وہ سند کے طور پر تھامے ہوئے ہیں،
22
(نہیں) بلکہ وہ کہتے ہیں: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ملّت (و مذہب) پر پایا اور یقیناً ہم انہی کے نقوشِ قدم پر (چلتے ہوئے) ہدایت یافتہ ہیں،
23
اور اسی طرح ہم نے کسی بستی میں آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے وڈیروں اور خوشحال لوگوں نے کہا: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ و مذہب پر پایا اور ہم یقیناً انہی کے نقوشِ قدم کی اقتداء کرنے والے ہیں،
24
(پیغمبر نے) کہا: اگرچہ میں تمہارے پاس اُس (طریقہ) سے بہتر ہدایت کا (دین اور) طریقہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا تھا، تو انہوں نے کہا: جو کچھ (بھی) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اُس کے منکر ہیں،
25
سو ہم نے اُن سے بدلہ لے لیا پس آپ دیکھئے کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا،
26
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے (حقیقی چچا مگر پرورش کی نسبت سے) باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: بیشک میں اُن سب چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم پوجتے ہو،
27
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا، سو وہی مجھے عنقریب راستہ دکھائے گا،
28
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (کلمۂ توحید) کو اپنی نسل و ذریّت میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرتے رہیں،
29
بلکہ میں نے انہیں اور اِن کے آباء و اجداد کو (اسی ابراہیم علیہ السلام کے تصدّق اور واسطہ سے اِس دنیا میں) فائدہ پہنچایا ہے یہاں تک کہ اِن کے پاس حق (یعنی قرآن) اور واضح و روشن بیان والا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آیا،
30
اور جب اُن کے پاس حق آپہنچا تو کہنے لگے: یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
Sonraki 30 ayet →