1
حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
2
نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے (رب) کی جانب سے اتارا جانا ہے،
3
(اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں علم و دانش رکھنے والی قوم کے لئے عربی (زبان میں) قرآن (ہے)،
4
خوشخبری سنانے والا ہے اور ڈر سنانے والا ہے، پھر ان میں سے اکثر لوگوں نے رُوگردانی کی سو وہ (اِسے) سنتے ہی نہیں ہیں،
5
اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل اُس چیز سے غلافوں میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں (بہرے پن کا) بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے سو آپ (اپنا) عمل کرتے رہئے ہم اپنا عمل کرنے والے ہیں،
6
(اِن کے پردے ہٹانے اور سننے پر آمادہ کرنے کے لئے) فرما دیجئے: (اے کافرو!) بس میں ظاہراً آدمی ہونے میں تو تم ہی جیسا ہوں (پھر مجھ سے اور میری دعوت سے اس قدر کیوں گریزاں ہو) میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ تمہارا معبود فقط معبودِ یکتا ہے، پس تم اسی کی طرف سیدھے متوجہ رہو اور اس سے مغفرت چاہو، اور مشرکوں کے لئے ہلاکت ہے،
7
جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہی تو آخرت کے بھی منکر ہیں،
8
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا،
9
فرما دیجئے: کیا تم اس (اﷲ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دِن (یعنی دو مدّتوں) میں پیدا فرمایا اور تم اُس کے لئے ہمسر ٹھہراتے ہو، وہی سارے جہانوں کا پروردگار ہے،
10
اور اُس کے اندر (سے) بھاری پہاڑ (نکال کر) اس کے اوپر رکھ دیئے اور اس کے اندر (معدنیات، آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور دیگر قوتوں کی) برکت رکھی، اور اس میں (جملہ مخلوق کے لئے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہے،
11
پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں،
12
پھر دو دِنوں (یعنی دو مرحلوں) میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی (تاکہ ایک کا نظام دوسرے میں مداخلت نہ کر سکے)، یہ زبر دست غلبہ (و قوت) والے، بڑے علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہے،
13
پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو آپ فرما دیں: میں تمہیں اُس خوفناک عذاب سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کی ہلاکت کے مانند ہوگا،
14
جب اُن کے پاس اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (یا اُن سے پہلے اور ان کے بعد) پیغمبر آئے (اور کہا) کہ اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، تو وہ کہنے لگے: اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا سو جو کچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں،
15
پس جو قومِ عاد تھی سو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر (و سرکشی) کی اور کہنے لگے: ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے وہ اُن سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے،
16
سو ہم نے اُن پر منحوس دنوں میں خوفناک تیز و تُند آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیوی زندگی میں ذِلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو سب سے زیادہ ذِلت انگیز ہوگا اور اُن کی کوئی مدد نہ کی جائے گی،
17
اور جو قومِ ثمود تھی، سو ہم نے انہیں راہِ ہدایت دکھائی تو انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنا ہی پسند کیا تو انہیں ذِلّت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا اُن اعمال کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے،
18
اور ہم نے اُن لوگوں کو نجات بخشی جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے،
19
اور جس دن اﷲ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف جمع کر کے لایا جائے گا پھر انہیں روک روک کر (اور ہانک کر) چلایا جائے گا،
20
یہاں تک کہ جب وہ دوزخ تک پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور اُن (کے جسموں) کی کھالیں اُن کے خلاف گواہی دیں گی اُن اعمال پر جو وہ کرتے رہے تھے،
21
پھر وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی: ہمیں اُس اﷲ نے گویائی عطا کی جو ہر چیز کو قوتِ گویائی دیتا ہے اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے،
22
تم تو (گناہ کرتے وقت) اس (خوف) سے بھی پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دے دیں گے اور نہ (یہ کہ) تمہاری آنکھیں اور نہ (یہ کہ) تمہاری کھالیں (ہی گواہی دے دیں گی) لیکن تم گمان کرتے تھے کہ اﷲ تمہارے بہت سے کاموں کو جو تم کرتے ہو جانتا ہی نہیں ہے،
23
اور تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم کیا، تمہیں ہلاک کر گیا سو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئے،
24
اب اگر وہ صبر کریں تب بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور اگر وہ (توبہ کے ذریعے اﷲ کی) رضا حاصل کرنا چاہیں تو بھی وہ رضا پانے والوں میں نہیں ہوں گے،
25
اور ہم نے اُن کے لئے ساتھ رہنے والے (شیاطین) مقرر کر دیئے، سو انہوں نے اُن کے لئے وہ (تمام برے اعمال) خوش نما کر دکھائے جو اُن کے آگے تھے اور اُن کے پیچھے تھے اور اُن پر (وہی) فرمانِ عذاب ثابت ہوگیا جو اُن امتوں کے بارے میں صادر ہوچکا تھا جو جنّات اور انسانوں میں سے اُن سے پہلے گزر چکی تھیں۔ بے شک وہ نقصان اٹھانے والے تھے،
26
اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو،
27
پس ہم کافروں کو سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے اور ہم انہیں اُن برے اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے جو وہ کرتے رہے تھے،
28
یہ دوزخ اﷲ کے دشمنوں کی جزا ہے، اُن کے لئے اِس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، یہ اُس کا بدلہ ہے جو وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے،
29
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں جنّات اور انسانوں میں سے وہ دونوں دِکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے (روند) ڈالیں تاکہ وہ سب سے زیادہ ذِلّت والوں میں ہو جائیں،
30
بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا،
Sonraki 24 ayet →