1
اس کتاب کا اتارا جانا اﷲ کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہے،
2
بے شک ہم نے آپ کی طرف (یہ) کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اﷲ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں،
3
(لوگوں سے کہہ دیں:) سُن لو! طاعت و بندگی خالصۃً اﷲ ہی کے لئے ہے، اور جن (کفّار) نے اﷲ کے سوا (بتوں کو) دوست بنا رکھا ہے، وہ (اپنی بُت پرستی کے جھوٹے جواز کے لئے یہ کہتے ہیں کہ) ہم اُن کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اﷲ کا مقرّب بنا دیں، بے شک اﷲ اُن کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقیناً اﷲ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے، بڑا ناشکر گزار ہے،
4
اگر اﷲ ارادہ فرماتا کہ (اپنے لئے) اولاد بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب فرما لیتا، وہ پاک ہے، وہی اﷲ ہے جو یکتا ہے سب پر غالب ہے،
5
اُس نے آسمانوں اور زمین کو صحیح تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (ایک نظام میں) مسخّر کر رکھا ہے، ہر ایک (ستارہ اور سیّارہ) مقرّر وقت کی حد تک (اپنے مدار میں) چلتا ہے، خبردار! وہی (پورے نظام پر) غالب، بڑا بخشنے والا ہے،
6
اس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اس نے تمہارے لئے آٹھ جاندار جانور مہیا کئے، وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہو،
7
اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے،
8
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے، پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا اور (پھر) اللہ کے لئے (بتوں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اس کی راہ سے بھٹکا دے، فرما دیجئے: (اے کافر!) تو اپنے کُفر کے ساتھ تھوڑا سا (ظاہری) فائدہ اٹھا لے، تو بے شک دوزخیوں میں سے ہے،
9
بھلا (یہ مشرک بہتر ہے یا) وہ (مومن) جو رات کی گھڑیوں میں سجود اور قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں،
10
(محبوب! میری طرف سے) فرما دیجئے: اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقوٰی اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گا،
11
فرما دیجئے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت، اپنی طاعت و بندگی کو اس کے لئے خالص رکھتے ہوئے سر انجام دوں،
12
اور مجھے یہ (بھی) حکم دیا گیا تھا کہ میں (اُس کی مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان بنوں،
13
فرما دیجئے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں زبردست دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،
14
فرما دیجئے: میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص رکھتے ہوئے،
15
سو تم اللہ کے سوا جس کی چاہو پوجا کرو، فرما دیجئے: بے شک نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو خسارہ میں ڈالا۔ یاد رکھو یہی کھلا نقصان ہے،
16
ان کے لئے اُن کے اوپر (بھی) آگ کے بادل (سائبان بنے) ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کے فرش ہوں گے، یہ وہ (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! بس مجھ سے ڈرتے رہو،
17
اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرنے سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے، پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے،
18
جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں،
19
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا، تو کیا آپ اس شخص کو بچا سکتے ہیں جو (دائمی) دوزخی ہو چکا ہو،
20
لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے (جنت میں) بلند محلات ہوں گے جن کے اوپر (بھی) بالاخانے بنائے گئے ہوں گے، اُن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا،
21
(اے انسان!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کیے، پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، پھر وہ (تیار ہوکر) خشک ہو جاتی ہے، پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے، بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے،
22
بھلا اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے، (اس کے برعکس) پس اُن لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہو کر) سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں،
23
اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے۔ اور اللہ جسے گمراہ کر دیتا (یعنی گمراہ چھوڑ دیتا) ہے تو اُس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا،
24
بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن (آگ کے) برے عذاب کو اپنے چہرے سے روک رہا ہوگا (کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہونگے، اس کا کیا حال ہوگا؟) اور ایسے ظالموں سے کہا جائے گا: اُن بداعمالیوں کا مزہ چکھو جو تم انجام دیا کرتے تھے،
25
ایسے لوگوں نے جو اِن سے پہلے تھے (رسولوں کو) جھٹلایا تھا سو اُن پر ایسی جگہ سے عذاب آپہنچا کہ انہیں کچھ شعور ہی نہ تھا،
26
پس اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں (ہی) ذِلّت و رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور یقیناً آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش وہ جانتے ہوتے،
27
اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں،
28
قرآن عربی زبان میں ہے (جو سب زبانوں سے زیادہ صاف اور بلیغ ہے) جس میں ذرا بھی کجی نہیں ہے تاکہ وہ تقوٰی اختیار کریں،
29
اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے ایسے (غلام) شخص کی جس کی ملکیت میں کئی ایسے لوگ شریک ہوں جو بداخلاق بھی ہوں اور باہم جھگڑالو بھی۔ اور (دوسری طرف) ایک ایسا شخص ہو جو صرف ایک ہی فرد کا غلام ہو، کیا یہ دونوں (اپنے) حالات کے لحاظ سے یکساں ہوسکتے ہیں؟ (ہرگز نہیں) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ توحید کو) نہیں جانتے،
30
(اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔٭، ٭جس طرح آیت: ٢۹ میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔
Sonraki 30 ayet →