1
قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی،
2
پھر بادلوں کو کھینچ کر لے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی،
3
پھر ذکرِ الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی،
4
بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہے،
5
(جو) آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) اِن دونوں کے درمیان ہے اس کا رب ہے، اور طلوعِ آفتاب کے تمام مقامات کا رب ہے،
6
بے شک ہم نے آسمانِ دنیا (یعنی پہلے کرّۂ سماوی) کو ستاروں اور سیاروں کی زینت سے آراستہ کر دیا،
7
اور (انہیں) ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنایا،
8
وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں،
9
اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے،
10
مگر جو (شیطان) ایک بار جھپٹ کر (فرشتوں کی کوئی بات) اُچک لے تو چمکتا ہوا انگارہ اُس کے پیچھے لگ جاتا ہے،
11
اِن سے پوچھئے کہ کیا یہ لوگ تخلیق کئے جانے میں زیادہ سخت (اور مشکل) ہیں یا وہ چیزیں جنہیں ہم نے (آسمانی کائنات میں) تخلیق فرمایا ہے، بیشک ہم نے اِن لوگوں کو چپکنے والے گارے سے پیدا کیا ہے،
12
بلکہ آپ تعجب فرماتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیں،
13
اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے،
14
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں،
15
اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف کھلا جادو ہے،
16
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہم یقینی طور پر (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے،
17
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے)،
18
فرما دیجئے: ہاں اور (بلکہ) تم ذلیل و رسوا (بھی) ہو گے،
19
پس وہ تو محض ایک (زور دار آواز کی) سخت جھڑک ہوگی سو سب اچانک (اٹھ کر) دیکھنے لگ جائیں گے،
20
اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہے،
21
(کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،
22
اُن (سب) لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو (بھی) اور اُن (معبودانِ باطلہ) کو (بھی) جنہیں وہ پوجا کرتے تھے،
23
اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر لے چلو،
24
اور انہیں (صراط کے پاس) روکو، اُن سے پوچھ گچھ ہوگی،
25
(اُن سے کہا جائے گا:) تمہیں کیا ہوا تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟،
26
(وہ مدد کیا کریں گے) بلکہ آج تو وہ خود گردنیں جھکائے کھڑے ہوں گے،
27
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال کریں گے،
28
وہ کہیں گے: بے شک تم ہی تو ہمارے پاس دائیں طرف سے (یعنی اپنے حق پر ہونے کی قَسمیں کھاتے ہوئے) آیا کرتے تھے،
29
(انہیں گمراہ کرنے والے پیشوا) کہیں گے: بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے،
30
اور ہمارا تم پر کچھ زور (اور دباؤ) نہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے،
Sonraki 30 ayet →