1
یا، سین (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
2
حکمت سے معمور قرآن کی قَسم،
3
بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں،
4
سیدھی راہ پر (قائم ہیں)،
5
(یہ) بڑی عزت والے، بڑے رحم والے (رب) کا نازل کردہ ہے،
6
تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے باپ دادا کو (بھی) نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیں،
7
درحقیقت اُن کے اکثر لوگوں پر ہمارا فرمان (سچ) ثابت ہو چکا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
8
بیشک ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں تو وہ اُن کی ٹھوڑیوں تک ہیں، پس وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں،
9
اور ہم نے اُن کے آگے سے (بھی) ایک دیوار اور اُن کے پیچھے سے (بھی) ایک دیوار بنا دی ہے، پھر ہم نے اُن (کی آنکھوں) پر پردہ ڈال دیا ہے سو وہ کچھ نہیں دیکھتے،
10
اور اُن پر برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا انہیں نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے،
11
آپ تو صرف اسی شخص کو ڈر سناتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمان سے بن دیکھے ڈرتا ہے، سو آپ اسے بخشش اور بڑی عزت والے اجر کی خوشخبری سنا دیں،
12
بیشک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اَعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں)، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہے،
13
اور آپ اُن کے لئے ایک بستی (انطاکیہ) کے باشندوں کی مثال (حکایۃً) بیان کریں، جب اُن کے پاس کچھ پیغمبر آئے،
14
جبکہ ہم نے اُن کی طرف (پہلے) دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے (ان کو) تیسرے (پیغمبر) کے ذریعے قوت دی، پھر اُن تینوں نے کہا: بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
15
(بستی والوں نے) کہا: تم تو محض ہماری طرح بشر ہو اور خدائے رحمان نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم فقط جھوٹ بول رہے ہو،
16
(پیغمبروں نے) کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
17
اور واضح طور پر پیغام پہنچا دینے کے سوا ہم پر کچھ لازم نہیں ہے،
18
(بستی والوں نے) کہا: ہمیں تم سے نحوست پہنچی ہے اگر تم واقعی باز نہ آئے تو ہم تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
19
(پیغمبروں نے) کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ نحوست ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی، بلکہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو،
20
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے میری قوم! تم پیغمبروں کی پیروی کرو،
21
ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں،
22
اور مجھے کیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،
23
کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ مجھے اُن کی سفارش کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیں،
24
بے شک تب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا،
25
بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم مجھے (غور سے) سنو،
26
(اسے کافروں نے شہید کر دیا تو اسے) کہا گیا: (آ) بہشت میں داخل ہوجا، اس نے کہا: اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا،
27
کہ میرے رب نے میری مغفرت فرما دی ہے اور مجھے عزت و قربت والوں میں شامل فرما دیا ہے،
28
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے (فرشتوں کا) کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہم (ان کی ہلاکت کے لئے فرشتوں کو) اتارنے والے تھے،
29
(ان کا عذاب) ایک سخت چنگھاڑ کے سوا اور کچھ نہ تھا، بس وہ اُسی دم (مر کر کوئلے کی طرح) بُجھ گئے،
30
ہائے (اُن) بندوں پر افسوس! اُن کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے،
Sonraki 30 ayet →