1
الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
2
اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئے،
3
نزدیک کے ملک میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے،
4
چند ہی سال میں (یعنی دس سال سے کم عرصہ میں)، اَمر تو اﷲ ہی کا ہے پہلے (غلبۂ فارس میں) بھی اور بعد (کے غلبۂ روم میں) بھی، اور اس وقت اہلِ ایمان خوش ہوں گے،
5
اﷲ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب ہے مہربان ہے،
6
(یہ تو) اﷲ کا وعدہ ہے، اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،
7
وہ (تو) دنیا کی ظاہری زندگی کو (ہی) جانتے ہیں اور وہ لوگ آخرت (کی حقیقی زندگی) سے غافل و بے خبر ہیں،
8
کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیں،
9
کیا ان لوگوں نے زمین میں سَیر و سیاحت نہیں کی تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ اِن سے زیادہ طاقتور تھے، اور انہوں نے زمین میں زراعت کی تھی اور اسے آباد کیا تھا، اس سے کہیں بڑھ کر جس قدر اِنہوں نے زمین کو آباد کیا ہے، پھر ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے تھے، سو اﷲ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے،
10
پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائی کی اس لئے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے،
11
اﷲ مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر (وہی) اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،
12
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ مایوس ہو جائیں گے،
13
اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گے،
14
اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ (نفسا نفسی میں) الگ الگ ہو جائیں گے،
15
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو وہ باغاتِ جنت میں خوش حال و مسرور کر دیئے جائیں گے،
16
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تو یہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،
17
پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)،
18
اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)،
19
وُہی مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب فرماتا ہے، اور تم (بھی) اسی طرح (قبروں سے) نکالے جاؤ گے،
20
اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو جو (زمین میں) پھیلے ہوئے ہو،
21
اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں،
22
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں،
23
اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل (یعنی رزق) کو تمہارا تلاش کرنا (بھی) ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیں،
24
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے (بارش کا) پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب کر دیتا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں،
25
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے (نظامِ) اَمر کے ساتھ قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) ایک بار پکارے گا تو تم اچانک (باہر) نکل آؤ گے،
26
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیں،
27
اور وہی ہے جو پہلی بار تخلیق کرتا ہے پھر اس کا اِعادہ فرمائے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اُس پر بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،
28
اُس نے (نکتۂ توحید سمجھانے کے لئے) تمہارے لئے تمہاری ذاتی زندگیوں سے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ کیا جو (لونڈی، غلام) تمہاری مِلک میں ہیں اس مال میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے شراکت دار ہیں، کہ تم (سب) اس (ملکیت) میں برابر ہو جاؤ۔ (مزید یہ کہ کیا) تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح تمہیں اپنوں کا خوف ہوتا ہے (نہیں) اسی طرح ہم عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں (کہ اﷲ کا بھی اس کی مخلوق میں کوئی شریک نہیں ہے)،
29
بلکہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بغیر علم (و ہدایت) کے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، پس اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اﷲ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہو اور ان لوگوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے،
30
پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے،
Sonraki 30 ayet →