1
طا، سین (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں،
2
(جو) ہدایت ہے اور (ایسے) ایمان والوں کے لئے خوشخبری ہے،
3
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر (بھی) یقین رکھتے ہیں،
4
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اَعمالِ (بد ان کی نگاہوں میں) خوش نما کر دیئے ہیں سو وہ (گمراہی میں) سرگرداں رہتے ہیں،
5
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بُرا عذاب ہے اور یہی لوگ آخرت میں (سب سے) زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں،
6
اور بیشک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے،
7
(وہ واقعہ یاد کریں) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا مجھے ایک آگ میں شعلۂ انس و محبت نظر آیا ہے)، عنقریب میں تمہارے پاس اس میں سے کوئی خبر لاتا ہوں (جس کے لئے مدت سے دشت و بیاباں میں پھر رہے ہیں) یا تمہیں (بھی اس میں سے) کوئی چمکتا ہوا انگارا لا دیتا ہوں تاکہ تم (بھی اس کی حرارت سے) تپ اٹھو،
8
پھر جب وہ اس کے پاس آپہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے جو اس آگ میں (اپنے حجاب نور کی تجلی فرما رہا) ہے اور وہ (بھی) جو اس کے آس پاس (اُلوہی جلووں کے پرتَو میں) ہے، اور اللہ (ہر قسم کے جسم و مثال سے) پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے،
9
اے موسٰی! بیشک وہ (جلوہ فرمانے والا) میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہے،
10
اور (اے موسٰی!) اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو، پھر جب (موسٰی نے لاٹھی کو زمین پر ڈالنے کے بعد) اسے دیکھا کہ سانپ کی مانند تیز حرکت کر رہی ہے تو (فطری رد ِعمل کے طور پر) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر (بھی) نہ دیکھا، (ارشاد ہوا): اے موسٰی! خوف نہ کرو بیشک پیغمبر میرے حضور ڈرا نہیں کرتے،
11
مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد (اسے) نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوں،
12
اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار (ہو کر) نکلے گا، (یہ دونوں اللہ کی) نو نشانیوں میں (سے) ہیں (انہیں لے کر) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ بیشک وہ نافرمان قوم ہیں،
13
پھر جب ان کے پاس ہماری نشانیاں واضح اور روشن ہو کر پہنچ گئیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ کھلا جادو ہے،
14
اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے۔ پس آپ دیکھئے کہ فساد بپا کرنے والوں کا کیسا (بُرا) انجام ہوا،
15
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے،
16
اور سلیمان (علیہ السلام)، داؤد (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی (بھی) سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ بیشک یہ (اللہ کا) واضح فضل ہے،
17
اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کئے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھے،
18
یہاں تک کہ جب وہ (لشکر) چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی کہنے لگی: اے چیونٹیو! اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو،
19
تو وہ (یعنی سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی) کی بات سے ہنسی کے ساتھ مسکرائے اور عرض کیا: اے پروردگار! مجھے اپنی توفیق سے اس بات پر قائم رکھ کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی ہے اور میں ایسے نیک عمل کرتا رہوں جن سے تو راضی ہوتا ہے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے خاص قرب والے نیکوکار بندوں میں داخل فرما لے،
20
اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ پا رہا یا وہ (واقعی) غائب ہو گیا ہے،
21
میں اسے (بغیر اجازت غائب ہونے پر) ضرور سخت سزا دوں گا یا اسے ضرور ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس (اپنے بے قصور ہونے کی) واضح دلیل لائے گا،
22
پس وہ تھوڑی ہی دیر (باہر) ٹھہرا تھا کہ اس نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جس پر (شاید) آپ مطلع نہ تھے اور میں آپ کے پاس (ملکِ) سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں،
23
میں نے (وہاں) ایک ایسی عورت کو پایا ہے جو ان (یعنی ملکِ سبا کے باشندوں) پر حکومت کرتی ہے اور اسے (ملکیت و اقتدار میں) ہر ایک چیز بخشی گئی ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت ہے،
24
میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ کی بجائے سورج کو سجدہ کرتے پایا ہے اور شیطان نے ان کے اَعمالِ (بد) ان کے لئے خوب خوش نما بنا دیئے ہیں اور انہیں (توحید کی) راہ سے روک دیا ہے سو وہ ہدایت نہیں پا رہے،
25
اس لئے (روکے گئے ہیں) کہ وہ اس اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہوں جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ (حقائق اور موجودات) کو باہر نکالتا (یعنی ظاہر کرتا) ہے اور ان (سب) چیزوں کو جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو،
26
اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) عظیم تختِ اقتدار کا مالک ہے،
27
(سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: ہم ابھی دیکھتے ہیں کیا تو سچ کہہ رہا ہے یا توجھوٹ بولنے والوں سے ہے،
28
میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آپھر دیکھ وہ کس بات کی طرف رجوع کرتے ہیں،
29
(ملکہ نے) کہا: اے سردارو! میری طرف ایک نامۂ بزرگ ڈالا گیا ہے،
30
بیشک وہ (خط) سلیمان (علیہ السلام) کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہے،
Sonraki 30 ayet →