1
طا، سین، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
2
یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں،
3
(اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے،
4
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں،
5
اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیں،
6
سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،
7
اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں،
8
بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں،
9
اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہے،
10
اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ،
11
(یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے،
12
موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے،
13
اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)،
14
اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے،
15
ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں،
16
پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں،
17
(ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے،
18
(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے،
19
اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)،
20
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)،
21
پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا،
22
اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا،
23
فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہے،
24
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،
25
اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو،
26
(موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،
27
(فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،
28
(موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو،
29
(فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گا،
30
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں،
Sonraki 30 ayet →