1
لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں (پڑے طاعت سے) منہ پھیرے ہوئے ہیں،
2
ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں (بے پرواہی سے) سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں،
3
ان کے دل غافل ہو چکے ہیں، اور (یہ) ظالم لوگ (آپ کے خلاف) آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، کیا پھر (بھی) تم (اس کے) جادو کے پاس جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو،
4
(نبئ معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین میں کہی جانے والی (ہر) بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،
5
بلکہ (ظالموں نے یہاں تک) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خوابوں (میں دیکھی ہوئی باتیں) ہیں بلکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے (خود ہی) گھڑ لیا ہے بلکہ (یہ کہ) وہ شاعر ہے، (اگر یہ سچا ہے) تو یہ (بھی) ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے جیسا کہ اگلے (رسول نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے،
6
ان سے پہلے ہم نے جس بھی بستی کو ہلاک کیا وہ (انہی نشانیوں پر) ایمان نہیں لائی تھی، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے،
7
اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہو،
8
اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (دنیا میں بہ حیاتِ ظاہری) ہمیشہ رہنے والے تھے،
9
پھر ہم نے انہیں اپنا وعدہ سچا کر دکھایا پھر ہم نے انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات بخشی اور ہم نے حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر ڈالا،
10
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے،
11
اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ و برباد کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے اور قوموں کو پیدا فرما دیا،
12
پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگے،
13
(ان سے کہا گیا:) تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائے،
14
وہ کہنے لگے: ہائے شومئ قسمت! بیشک ہم ظالم تھے،
15
سو ہمیشہ ان کی یہی فریاد رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی (اور) بجھی ہوئی آگ (کے ڈھیر) کی طرح بنا دیا،
16
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایا،
17
اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتے،
18
بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہو،
19
اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا (بندہ و مملوک) ہے، اور جو (فرشتے) اس کی قربت میں (رہتے) ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے تکبّر کرتے ہیں اور نہ وہ (اس کی طاعت بجا لاتے ہوئے) تھکتے ہیں،
20
وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتے،
21
کیا ان (کافروں) نے زمین (کی چیزوں) میں سے ایسے معبود بنا لئے ہیں جو (مُردوں کو) زندہ کر کے اٹھا سکتے ہیں،
22
اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اﷲ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اﷲ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں،
23
اس سے اس کی بازپرس نہیں کی جا سکتی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اور ان سے (ہر کام کی) بازپرس کی جائے گی،
24
کیا ان (کافروں) نے اسے چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں؟ فرما دیجئے: اپنی دلیل لاؤ، یہ (قرآن) ان لوگوں کا ذکر ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا (بھی) ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اِس لئے وہ اِس سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں،
25
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو،
26
یہ لوگ کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (فرشتوں کو اپنی) اولاد بنا رکھا ہے وہ پاک ہے، بلکہ (جن فرشتوں کو یہ اُس کی اولاد سمجھتے ہیں) وہ (اﷲ کے) معزز بندے ہیں،
27
وہ کسی بات (کے کرنے) میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے امر کی تعمیل کرتے رہتے ہیں،
28
وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں،
29
اور ان میں سے کون ہے جو کہہ دے کہ میں اس (اﷲ) کے سوا معبود ہوں سو ہم اسی کو دوزخ کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں،
30
اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے،
Sonraki 30 ayet →