1
طا، ہا (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
2
(اے محبوبِ مکرّم!) ہم نے آپ پر قرآن (اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں،
3
مگر (اسے) اس شخص کے لئے نصیحت (بنا کر اتارا) ہے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہے،
4
(یہ) اس (اللہ) کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور بلند و بالا آسمان پیدا فرمائے،
5
(وہ) نہایت رحمت والا (ہے) جو عرش (یعنی جملہ نظام ہائے کائنات کے اقتدار) پر متمکّن ہوگیا،
6
(پس) جو کچھ آسمانوں (کی بالائی نوری کائناتوں اور خلائی مادی کائناتوں) میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان (فضائی اور ہوائی کرّوں میں) ہے اور جو کچھ سطح ارضی کے نیچے آخری تہہ تک ہے سب اسی کے (نظام اور قدرت کے تابع) ہیں،
7
اور اگر آپ ذکر و دعا میں جہر (یعنی آواز بلند) کریں (تو بھی کوئی حرج نہیں) وہ تو سِرّ (یعنی دلوں کے رازوں) اور اخفی (یعنی سب سے زیادہ مخفی بھیدوں) کو بھی جانتا ہے (تو بلند التجاؤں کو کیوں نہیں سنے گا)،
8
اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو)، اس کے لئے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)،
9
اور کیا آپ کے پاس موسٰی (علیہ السلام) کی خبر آچکی ہے،
10
جب موسٰی (علیہ السلام) نے (مدین سے واپس مصر آتے ہوئے) ایک آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا میں نے ایک آگ میں انس و محبت کا شعلہ پایا ہے) شاید میں اس میں سے کوئی چنگاری تمہارے لئے (بھی) لے آؤں یا میں اس آگ پر (سے وہ) رہنمائی پا لوں (جس کی تلاش میں سرگرداں ہوں)،
11
پھر جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ندا کی گئی: اے موسٰی،
12
بیشک میں ہی تمہارا رب ہوں سو تم اپنے جوتے اتار دو، بیشک تم طوٰی کی مقدس وادی میں ہو،
13
اور میں نے تمہیں (اپنی رسالت کے لئے) چن لیا ہے پس تم پوری توجہ سے سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہے،
14
بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو،
15
بیشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس (عمل) کا بدلہ دیا جائے جس کے لئے وہ کوشاں ہے،
16
پس تمہیں وہ شخص اس (کے دھیان) سے روکے نہ رکھے جو (خود) اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشِ (نفس) کا پیرو ہے ورنہ تم (بھی) ہلاک ہوجاؤ گے،
17
اور یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسی،
18
انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے کئی اور فائدے بھی ہیں،
19
ارشاد ہوا: اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دو،
20
پس انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو وہ اچانک سانپ ہوگیا (جو ادھر ادھر) دوڑنے لگا،
21
ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے،
22
اور (حکم ہوا:) اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا لو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمک دار ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہے،
23
یہ اس لئے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
24
تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے،
25
(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرما دے،
26
اور میرا کارِ (رسالت) میرے لئے آسان فرما دے،
27
اور میری زبان کی گرہ کھول دے،
28
کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیں،
29
اور میرے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر بنا دے،
30
(وہ) میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) ہو،
Sonraki 30 ayet →