1
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، یہ وہ) کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم بنا دی گئی ہیں، پھر حکمت والے باخبر (رب) کی جانب سے وہ مفصل بیان کر دی گئی ہیں،
2
یہ کہ اللہ کے سوا تم کسی کی عبادت مت کرو، بیشک میں تمہارے لئے اس (اللہ) کی جانب سے ڈر سنانے والا اور بشارت دینے والا ہوں،
3
اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر تم اس کے حضور (صدقِ دل سے) توبہ کرو وہ تمہیں وقتِ معین تک اچھی متاع سے لطف اندوز رکھے گا اور ہر فضیلت والے کو اس کی فضیلت کی جزا دے گا (یعنی اس کے اَعمال و ریاضت کی کثرت کے مطابق اَجر و درجات عطا فرمائے گا)، اور اگر تم نے روگردانی کی تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،
4
تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،
5
جان لو! بیشک وہ (کفار) اپنے سینوں کو دُہرا کر لیتے ہیں تاکہ وہ اس (خدا) سے (اپنے دلوں کا حال) چھپا سکیں، خبردار! جس وقت وہ اپنے کپڑے (جسموں پر) اوڑھ لیتے ہیں (تو اس وقت بھی) وہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ آشکار کرتے ہیں، بیشک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے،
6
اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے جانے کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے، ہر بات کتابِ روشن (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے،
7
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا اور (تخلیقِ اَرضی سے قبل) اس کا تختِ اقتدار پانی پر تھا (اور اس نے اس سے زندگی کے تمام آثار کو اور تمہیں پیدا کیا) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے؟ اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر یقینًا (یہ) کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ (اور) نہیں ہے،
8
اور اگر ہم ان سے چند مقررہ دنوں تک عذاب کو مؤخر کردیں تو وہ یقینًا کہیں گے کہ اسے کس چیز نے روک رکھا ہے، خبردار! جس دن وہ (عذاب) ان پر آئے گا (تو) ان سے پھیرا نہ جائے گا اور وہ (عذاب) انہیں گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،
9
اور اگر ہم انسان کو اپنی جانب سے رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں پھر ہم اسے (کسی وجہ سے) اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ نہایت مایوس (اور) ناشکرگزار ہو جاتا ہے،
10
اور اگر ہم اسے (کوئی) نعمت چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو ضرور کہہ اٹھتا ہے کہ مجھ سے ساری تکلیفیں جاتی رہیں، بیشک وہ بڑا خوش ہونے والا (اور) فخر کرنے والا (بن جاتا) ہے،
11
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل کرتے رہے، (تو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے،
12
بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس میں سے کچھ چھوڑ دیں جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور اس سے آپ کا سینہء (اَطہر) تنگ ہونے لگے (اس خیال سے) کہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، (ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اے رسولِ معظم!) آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں (کسی کو دنیوی لالچ یا سزا دینے والے نہیں)، اور اﷲ ہر چیز پر نگہبان ہے،
13
کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: تم (بھی) اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اﷲ کے سوا (اپنی مدد کے لئے) جسے بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو،
14
(اے مسلمانو!) سو اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو یقین رکھو کہ قرآن فقط اﷲ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا (اب) تم اسلام پر (ثابت قدم) رہو گے،
15
جو لوگ (فقط) دنیوی زندگی اور اس کی زینت (و آرائش) کے طالب ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتے ہیں اور انہیں اس (دنیا کے صلہ) میں کوئی کمی نہیں دی جاتی،
16
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کچھ (حصہ) نہیں سوائے آتشِ (دوزخ) کے، اور وہ سب (اَعمال اپنے اُخروی اَجر کے حساب سے) اکارت ہوگئے جو انہوں نے دنیا میں انجام دیئے تھے اور وہ (سب کچھ) باطل و بے کار ہوگیا جو وہ کرتے رہے تھے (کیونکہ ان کا حساب پورے اجر کے ساتھ دنیا میں ہی چکا دیا گیا ہے اور آخرت کے لئے کچھ نہیں بچا)،
17
وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اﷲ کی جانب سے ایک گواہ (قرآن) بھی اس شخص کی تائید و تقویت کے لئے آگیا ہے اور اس سے قبل موسٰی (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) بھی جو رہنما اور رحمت تھی (آچکی ہو) یہی لوگ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیا (یہ) اور (کافر) فرقوں میں سے وہ شخص جو اس (قرآن) کا منکر ہے (برابر ہوسکتے ہیں) جبکہ آتشِ دوزخ اس کا ٹھکانا ہے، سو (اے سننے والے!) تجھے چاہئے کہ تو اس سے متعلق ذرا بھی شک میں نہ رہے، بیشک یہ (قرآن) تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے،
18
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے، ایسے ہی لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، جان لو کہ ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے،
19
جو لوگ (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور وہی لوگ آخرت کے منکر ہیں،
20
یہ لوگ (اﷲ کو) زمین میں عاجز کر سکنے والے نہیں اور نہ ہی ان کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہیں۔ ان کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا (کیونکہ) نہ وہ (حق بات) سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ (حق کو) دیکھ ہی سکتے تھے،
21
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہے،
22
یہ بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں،
23
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،
24
(کافر و مسلم) دونوں فریقوں کی مثال اندھے اور بہرے اور (اس کے برعکس) دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہے؟ کیا تم پھر (بھی) نصیحت قبول نہیں کرتے،
25
اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، (انہوں نے ان سے کہا:) میں تمہارے لئے کھلا ڈر سنانے والا (بن کر آیا) ہوں،
26
کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تم پر دردناک دن کے عذاب (کی آمد) کا خوف رکھتا ہوں،
27
سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،
28
(نوح علیہ السلام نے) کہا: اے میری قوم! بتاؤ تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر بھی ہوں اور اس نے مجھے اپنے حضور سے (خاص) رحمت بھی بخشی ہو مگر وہ تمہارے اوپر (اندھوں کی طرح) پوشیدہ کر دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر جبراً مسلّط کر سکتے ہیں درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو،
29
اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں،
30
اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے،
Sonraki 30 ayet →