2
بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
3
کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے
4
ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے
5
بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں
6
تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سنوارا اور اس میں کہیں رخنہ نہیں
7
اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱۴ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا،
8
سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے
9
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے
10
اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا،
11
بندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس سے مردہ شہر جِلایا یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے
12
ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود
13
اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں
14
اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا
15
تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں،
16
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں
17
اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں
18
کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو
19
اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،
20
اور صُور پھونکا گیا یہ ہے وعدہٴ عذاب کا دن
21
اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ
22
بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے
23
اور اس کا ہمنشین فرشتہ بولا یہ ہے جو میرے پاس حاضر ہے،
24
حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،
25
جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا
26
جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو،
27
اس کے ساتھی شیطان نے کہا ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا
28
فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا
29
میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،
30
جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے
Sonraki 15 ayet →