3
ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو
4
اور بیشک وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے،
5
تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو
6
اور ہم نے کتنے ہی غیب بتانے والے (نبی) اگلوں میں بھیجے،
7
اور ان کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کیے
8
تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
9
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے
10
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ
11
اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے
12
اور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں،
13
کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
14
اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے
15
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے
16
کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا
17
اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے
18
اور کیا وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے اور بحث میں صاف بات نہ کرے
19
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا
20
اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں
21
یا اس سے قبل ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں
22
بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں
23
اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں
24
نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے
25
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا،
26
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں بیزار ہوں تمہارے معبودو ں سے،
27
سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ ضرور وہ بہت جلد مجھے راہ دے گا،
28
اور اسے اپنی نسل میں باقی کلام رکھا کہ کہیں وہ باز آئیں
29
بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا
30
اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
Sonraki 30 ayet →