1
یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے
2
اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بے ستونوں کے کہ تم دیکھو پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو
3
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر اور نہریں بنائیں، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو
4
اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
5
اور اگر تم تعجب کرو تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
6
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے
7
اور کا فر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں نہیں اتری تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی
8
اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے
9
ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا
10
برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے
11
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں
12
وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
13
اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے،
14
اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
15
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے خواہ مجبوری سے اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام السجدة ۔۲
16
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرما ؤ اللہ تم فرما ؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں تم فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرما ؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے
17
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں گہنا یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
18
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُ ا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی بُرا بچھونا،
19
تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
20
وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر پھرتے نہیں
21
اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں
22
اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
23
بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے،
24
سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا،
25
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر
26
اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے، اور کا فر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
27
اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
28
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے
29
وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام
30
اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
Sonraki 13 ayet →