2
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
3
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے
4
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
5
وہ رحمان (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے
6
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
7
تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے
8
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں
9
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
10
جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ " ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے"
11
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
12
میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے
13
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
14
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر
15
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے
16
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
17
اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟"
18
موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں"
19
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
20
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
21
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
22
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے
23
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
24
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
25
موسیٰؑ نے عرض کیا " پروردگار، میرا سینہ کھول دے
26
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
27
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
28
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں
29
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
30
ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے
Sonraki 30 ayet →