1
ا ل ر یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی
2
بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا
3
چھوڑو اِنہیں کھائیں، پییں، مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی امید عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
4
ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی
5
کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے
6
یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے
7
اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا؟"
8
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی
9
رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں
10
اے محمدؐ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں
11
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کہ پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو
12
مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں
13
وہ اِس پر ایمان نہیں لایا کرتے قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے
14
اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے
15
تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
16
یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا
17
اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا
18
کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے
19
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی
20
اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو
21
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں
22
بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اُس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں اِس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو
23
زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں
24
پہلے جو لوگ تم میں سے ہو گزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں
25
یقیناً تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی
26
ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا
27
اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے
28
پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں
29
جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا"
30
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا
Sonraki 30 ayet →