1
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں
2
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے
3
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے
4
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
5
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے
6
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے
7
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے
8
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان
9
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں
10
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ
11
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور
12
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار
13
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو
14
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے
15
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں
16
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے
17
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے
19
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے
20
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
21
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں
22
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو
23
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے
24
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے
25
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے
26
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے
27
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی
28
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟
29
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے
30
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے
Sonraki 22 ayet →