1
قسم ہے ستارے کی جب وه گرے
2
کہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے
3
اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں
4
وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے
5
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے
6
جو زور آور ہے پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا
7
اور وه بلند آسمان کے کناروں پر تھا
8
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا
9
پس وه دو کمانوں کے بقدر فاصلہ ره گیا بلکہ اس سے بھی کم
10
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی
11
دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا
12
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں
13
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا
15
اسی کے پاس جنہ الماویٰ ہے
16
جب کہ سدره کو چھپائے لیتی تھی وه چیز جو اس پر چھا رہی تھی
17
نہ تو نگاه بہکی نہ حد سے بڑھی
18
یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں
19
کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا
20
اور منات تیسرے پچھلے کو
21
کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟
22
یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے
23
دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے
24
کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟
25
اللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ جہان اور وه جہان
26
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے
27
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں
28
حاﻻنکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں وه صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا
29
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو
30
یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے
Sonraki 30 ayet →