1
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر
2
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو
3
پھر چلنے والیاں نرمی سے
4
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں
5
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں
6
اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے
7
قسم ہے راہوں والے آسمان کی
8
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو
9
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو
10
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے
11
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں
12
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
13
ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے
14
اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے
15
بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے
16
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے
17
وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے
18
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے
19
اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا
20
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں
21
اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو
22
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے
23
آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو
24
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟
25
وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں
26
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے
27
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں
28
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی
29
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ
30
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے
Sonraki 30 ayet →