2
یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی
3
جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی
4
کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے، لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا
5
مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے، میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما
6
جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے
7
اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحيٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا
8
زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جبکہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں
9
ارشاد ہوا کہ وعده اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں
10
کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا
11
اب زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشاره کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو
12
اے یحيٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی
13
اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وه پرہیزگار شخص تھا
14
اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے واﻻ تھا وه سرکش اور گناه گار نہ تھا
15
اس پر سلام ہے جس دن وه پیدا ہوا اور جس دن وه مرے اور جس دن وه زنده کرکے اٹھایا جائے
16
اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وه اپنے گھر کے لوگوں سے علیحده ہو کر مشرقی جانب آئیں
17
اور ان لوگوں کی طرف سے پرده کر لیا، پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وه اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ﻇاہر ہوا
18
یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناه مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے واﻻ ہے
19
اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزه لڑکا دینے آیا ہوں
20
کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں
21
اس نے کہا بات تو یہی ہے۔ لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وه مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت، یہ تو ایک طے شده بات ہے
22
پس وه حمل سے ہو گئیں اوراسی وجہ سے وه یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں
23
پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی
24
اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزرده خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے
25
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازه پکی کھجوریں گرا دے گا
26
اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ، اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمنٰ کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی
27
اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وه اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی
28
اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی
29
مریم نے اپنے بچے کی طرف اشاره کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟
30
بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بنده ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے
Sonraki 30 ayet →