1
(اے رسول) لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے ہیں۔ پس اگر تم مؤمن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ اور اپنے باہمی تعلقات و معاملات کی اصلاح کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
2
(کامل) ایمان والے تو بس وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ ہر ایک حال میں اپنے پروردگار پر توکل (بھروسہ) رکھتے ہیں۔
3
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
4
بے شک ایسے لوگ حقیقی مؤمن ہیں۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں مرتبے ہیں۔ اور بخشش ہے اور بہترین روزی ہے۔
5
(یہ انفال کا معاملہ ایسا ہی ہے) جیساکہ آپ کے پروردگار نے (جنگِ بدر میں) حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے نکالا اور اہلِ ایمان کا ایک گروہ اس کو ناپسند کر رہا تھا۔
6
باوجودیکہ حق واضح ہوگیا تھا مگر وہ گروہ آپ سے اس امرِ حق میں یوں جھگڑ رہا تھا۔ کہ گویا اسے موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے اور وہ اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھ رہا ہے۔
7
اور (یاد کرو وہ وقت) کہ جب خدا نے تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہارے لئے ہے (تمہارے ہاتھ آئے گا) اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام و احکام کے ذریعہ سے حق کو ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
8
تاکہ حق کو حق کرکے اور باطل کو باطل کرکے دکھا دے اگرچہ مجرم لوگ اس بات کو کتنا ہی ناپسند کریں (یعنی خدا چاہتا تھا کہ تمہاری مسلح گروہ سے مڈبھیڑ ہو)۔
9
(اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے اور اس نے تمہاری فریاد سن لی (اور فرمایا) کہ تمہاری مدد کے لیے یکے بعد دیگرے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔
10
اور اللہ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو اور تمہارے مضطرب دلوں کو اطمینان ہو ورنہ فتح و فیروزی تو بہرحال اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ یقینا اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔
11
اور وہ وقت (بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ) جب اللہ نے تمہیں غنودگی سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ اس کی طرف سے تمہیں امن و سکون حاصل ہو۔ اور آسمان سے تم پر پانی برسا رہا تھا۔ تاکہ تمہیں پاک صاف کرے اور تم سے شیطان کی نجاست و ناپاکی دور کرے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے (تمہاری ڈھارس بندھائے) اور تمہارے قدموں کو جمائے۔
12
اور وہ وقت بھی (یاد رکھنے کے قابل ہے) جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو۔ میں عنقریب کافروں کے دلوں میں (مؤمنوں کا) رعب ڈال دوں گا سو (اے مسلمانو) تم کافروں کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔
13
یہ اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے خدا اور رسول(ص) کی مخالفت کی۔ یاد رکھو کہ جو کوئی بھی خدا اور رسول کی مخالفت کرے گا تو اللہ (مکافاتِ عمل میں) سخت سزا دینے والا ہے۔
14
(اے مخالفینِ حق) دنیا میں تمہاری یہ سزا ہے۔ پس اس کا مزہ چکھو۔ اور (آخرت میں) آتشِ دوزخ کا عذاب بھی ہے۔
15
اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے تو خبردار! ان کے مقابلہ میں ان کو پیٹھ نہ دکھانا (بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم کر لڑنا)۔
16
اور جو ایسے (جنگ والے) موقع پر ان کو پیٹھ دکھائے گا۔ سوا اس کے جو جنگی چال کے طور پر ہٹ جائے۔ یا کسی (اپنے) فوجی دستہ کے پاس جگہ لینے کے لیے ایسا کرے (کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے) تو وہ خدا کے قہر و غضب میں آجائے گا۔ اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔
17
(اے مسلمانو) تم نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا اور (اے رسول(ص)) وہ سنگریزے تو نے نہیں پھینکے جبکہ تو نے پھینکے بلکہ خدا نے پھینکے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ) خدا اہلِ ایمان پر خوب احسان فرمائے (یا اللہ اس کے ذریعہ سے ایمان والوں کو بہترین آزمائش میں ڈال کر آزمائے) یقینا اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
18
یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہو چکا ہے اور (کفار کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ) اللہ ان کی مخفی تدبیروں کو کمزور کرنے والا ہے۔
19
اور (اے کفارِ مکہ) اگر تم فتحمندی کے طلبگار ہو (کہ جو حق پر ہے اس کی فتح ہو) تو (مسلمانوں کی) فتح تمہارے سامنے آگئی! اور اگر تم اب بھی (جنگ و جدال) سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پلٹ کر پھر وہی (شرارت) کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے (مسلمانوں کی نصرت کریں گے اور تمہیں سزا دیں گے) اور تمہاری جمعیت چاہے کتنی ہی زیادہ ہو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ بے شک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
20
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم (آوازِ حق) سن رہے ہو۔
21
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ (دراصل) وہ کچھ بھی سنتے (سناتے) نہیں ہیں۔
22
بے شک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے بدتر جانور وہ (انسان) ہیں جو بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔
23
اگر اللہ جانتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو ضرور انہیں سنوا دیتا اور اگر (اس بھلائی کے بغیر) انہیں سنواتا۔ تو وہ بے رخی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دیتے۔
24
اے ایمان والو اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو۔ جب کہ وہ (رسول) تمہیں بلائیں۔ اس چیز کی طرف جو تمہیں (روحانی) زندگی بخشنے والی ہے۔ اور جان لو۔ کہ اللہ (اپنے مقررہ اسباب کے تحت) انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور (یہ بھی جان لو کہ) تم سب اسی کے حضور جمع کئے جاؤگے۔
25
اور اس فتنہ سے بچو جو صرف انہی تک محدود نہیں رہے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم و تعدی کی (بلکہ سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے) اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
26
اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے اور ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اللہ نے تمہیں (مدینہ میں) پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاک و پاکیزہ چیزیں دے کر رزق کا سامان مہیا کر دیا۔ تاکہ تم شکر گزار ہو۔
27
اے ایمان والو! سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔
28
اور جان لو۔ کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد (تمہارے لئے) ایک آزمائش ہیں اور یہ بھی کہ اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔
29
اے ایمان والو اگر تم تقوائے الٰہی اختیار کرو۔ تو خدا تمہیں حق و باطل میں تفرقہ کرنے کی قوت و صلاحیت عطا فرمائے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو ڈھانپ لے گا (پردہ پوشی کرے گا) اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بڑا فضل (و کرم) والا ہے۔
30
اور (اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو جب کافر آپ کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں۔ یا قتل کریں۔ یا شہر بدر کر دیں وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
Sonraki 30 ayet →