1
قَسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (جسم میں ڈوب کر) سختی سے (جان) کھینچتے ہیں۔
2
اور قَسم ہے آہستگی اور آسانی سے (جان) نکالنے والوں کی۔
3
اور قَسم ہے (فضاؤں کے اندر) تیر نے پھرنے والوں کی۔
4
پھر قَسم ہے (تعمیلِ حکم میں) ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والوں کی۔
5
پھر قَسم ہے ہر امر کا بندوبست کرنے والوں کی (کہ قیامت برحق ہے)۔
6
جس دن تھرتھرانے والی (زمین وغیرہ) تھرتھرائے گی۔
7
اس کے پیچھے ایک اور آنے والی (مصیبت) آئے گی۔
8
کچھ دل اس دن کانپ رہے ہوں گے۔
9
ان کی آنکھیں (شدتِ خوف سے) جھکی ہوئی ہوں گی۔
10
وہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں (الٹے پاؤں) واپس لائے جائیں گے؟
11
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟
12
کہتے ہیں یہ (واپسی) تو بڑے گھاٹے کی ہوگی۔
13
حالانکہ اس (واپسی) کیلئے ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی۔
14
پھر وہ کھلے ہوئے میدان (قیامت) میں موجود ہوں گے۔
15
(اے رسول(ص)) کیا آپ(ص) کو موسیٰ(ع) کے قصہ کی خبر پہنچی ہے؟
16
جب ان کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں پکارا تھا۔
17
کہ جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔
18
پس اس سے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے؟
19
اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے پروردگار کی طرف تیری راہنمائی کروں تو تُو (اس سے) ڈرے؟
20
پس موسیٰ(ع) نے (وہاں جا کر) اسے ایک بہت بڑی نشانی دکھائی۔
21
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔
22
پھر وہ پلٹا (اور مخالفانہ سرگرمیوں میں) کوشاں ہو گیا۔
23
یعنی (لوگوں کو) جمع کیا اور پکار کر کہا۔
24
کہ میں تمہارا سب سے بڑا پرورگار ہوں۔
25
پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے (دوہرے) عذاب میں پکڑا۔
26
بےشک اس (قصہ) میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کیلئے جو (خدا سے) ڈرے۔
27
کیا تم لوگوں کا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے؟ یا آسمان کا؟ اللہ نے اس کو بنایا۔
28
اور اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس کو درست کیا۔
29
اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔
30
اس کے بعد زمین کو بچھایا۔
Sonraki 16 ayet →