1
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا۔
2
جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے (اور) اسے کوئی ٹالنے والانہیں ہے۔
3
جو اس خدا کی طرف سے ہے جو بلندی کے زینوں والا ہے۔
4
فرشتے اور روح اس کی بارگاہ میں ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔
5
(اے نبی(ص)) پس آپ(ص) بہترین صبر کیجئے۔
6
یہ لوگ تو اس (روز) کو بہت دور سمجھتے ہیں۔
7
مگر ہم اسے بالکل قریب دیکھ رہے ہیں۔
8
جس دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہو جائے گا۔
9
اور پہاڑ دھنکی ہوئی رُوئی کی مانند ہو جائیں گے۔
10
اور کوئی دوست کسی دو ست کو نہ پو چھے گا۔
11
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کیلئے اپنے بیٹوں،
12
اپنی بیوی اور اپنے بھائی،
13
اور اپنے قریبی کنبہ جو اسے پناہ دینے والا ہے۔
14
اور رُوئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور پھر یہ (فدیہ) اسے نجات دلا دے۔
15
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کا شعلہ ہے۔
16
جو کھال کو ادھیڑ کر رکھ دے گا۔
17
اور ہر اس شخص کو (اپنی طرف) بلائے گا جو پیٹھ پھرائے گااور رُوگردانی کرے گا۔
18
اور جس نے (مال) جمع کیا اور پھر اسے سنبھال کر رکھا۔
19
بےشک انسان بےصبرا پیدا ہوا ہے۔
20
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بہت گھبرا جاتا ہے۔
21
اورجب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بہت بُخل کرتا ہے۔
22
مگر وہ نمازی (اس عیب سے محفوظ ہیں)۔
23
جو اپنی نمازوں پر مُداومَت کرتے ہیں۔
24
اورجن کے مالوں میں مقررہ حق ہے۔
26
اور جو جزا و سزا کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔
27
اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔
28
کیونکہ ان کے پروردگار کا عذاب وہ چیز ہے جس سے کسی کو مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔
29
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
30
سوائے اپنی بیویوں کے یا اپنی مملوکہ کنیزوں کے کہ اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔
Sonraki 14 ayet →