2
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ لہٰذا تمہارے دل میں اس کی وجہ سے کوئی تنگی نہیں ہونا چاہیے۔ (یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے) تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے (لوگوں کو خدا کے عذاب سے) ڈرائیں اور اہلِ ایمان کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔
3
(اے لوگو) جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اور اس (پروردگار) کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں (حوالی موالی) کی پیروی نہ کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
4
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے انہیں تباہ کر دیا پس ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آیا یا جب وہ دن میں قیلولہ کر رہے تھے (سو رہے تھے)۔
5
جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا ان کی اور کوئی پکار نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔
6
بے شک ہم ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے۔ جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے۔ اور خود رسولوں سے بھی پوچھ گچھ کریں گے۔
7
پھر ہم پورے علم کے ساتھ ان کے سامنے سب (حالات و واقعات) بیان کریں گے آخر ہم غیر حاضر تو تھے نہیں۔
8
اور اس دن وزن (اعمال کا تولا جانا) بالکل حق ہے پس جس کے پلے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔
9
اور جس کے پلے ہلکے ہوں گے۔ وہ اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ناانصافی کرتے تھے۔
10
اور ہم نے تمہیں زمین میں تمکین دی (اقتدار و اختیار دیا) اور اس میں تمہارے لئے زندگی گزارنے کے سامان فراہم کئے۔ مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
11
بے شک ہم نے تمہاری تخلیق کا آغاز کیا اور پھر تمہاری صورت گری کی اس کے بعد فرشتوں سے کہا کہ آدم(ع) کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔
12
(خدا نے) فرمایا: جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تجھے کس چیز نے روکا؟ کہا میں اس (آدم(ع)) سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
13
ارشاد ہوا۔ تو پھر تو یہاں سے نیچے اتر جا۔ کیونکہ تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو یہاں رہ کر تکبر و غرور کرے۔ بس یہاں سے نکل جا۔ یقینا تو ذلیلوں میں سے ہے۔
14
کہا۔ مجھے اس دن تک مہلت دے جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
15
فرمایا: اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔
16
کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو اب میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔
17
پھر میں ان کے آگے کی طرف سے اور ان کے پیچھے کی جانب سے اور ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے آؤں گا (اور انہیں ورغلاؤں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
18
فرمایا: ذلیل اور راندہ ہوکر یہاں سے نکل جا میں تجھے اور اسے جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
19
اور اے آدم(ع)! تم اور تمہاری بیوی دونوں اس بہشت میں رہو۔ اور جہاں سے چاہو (اور جو چیز دل چاہے) کھاؤ۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤگے۔
20
تو شیطان نے جھوٹی قسم کھا کر ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا۔ تاکہ ان کے وہ ستر والے مقام جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھے ظاہر کر دے اور کہا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں صرف اس لئے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
21
اور اس نے دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہارے سچے خیرخواہوں میں سے ہوں۔
22
اس طرح اس نے ان دونوں کو فریب سے مائل کر دیا (اور اس طرح جنت) کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں تک پہنچا دیا۔ پس جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا۔ تو ان کے جسم کے چھپے ہوئے حصے نمودار ہوگئے اور وہ جنت کے پتوں کو جوڑ کر اپنے یہ مقام (ستر) چھپانے لگے تب ان کے پروردگار نے ان کو ندا دی۔ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
23
اس وقت ان دونوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اگر تو درگزر نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔
24
ارشاد ہوا! تم دونوں (بہشت سے) نیچے اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت معلوم تک تمہارا زمین میں ہی ٹھکانہ اور سامانِ زیست ہے۔
25
(یہ بھی فرمایا) اسی زمین میں تم نے جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور پھر اسی سے دوبارہ نکالے جاؤگے۔
26
اے اولادِ آدم(ع)! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے قابلِ ستر حصوں کو چھپاتا ہے اور (باعث) زینت بھی ہے۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے یہ (لباس بھی) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
27
اے اولادِ آدم! (ہوشیار رہنا) کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح فتنہ میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا۔ اور ان کے جسم سے کپڑے تک اتروا دیئے تھے تاکہ ان کے جسم کے قابلِ ستر حصے ان کو دکھا دے یقینا وہ (شیطان) اور اس کا قبیلہ تمہیں جس طرح اور جہاں سے دیکھتا ہے تم انہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
28
اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور خدا نے (بھی) ہمیں یہی حکم دیا ہے اے رسول کہیئے کہ یقینا کبھی اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ پر ایسی بات کی تہمت لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے؟
29
اے رسول(ص) کہو! میرے پروردگار نے مجھے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اپنے چہرہ کو سیدھ پر رکھو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارو دین کو اسی کے لئے خالص کرکے جس طرح اس نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا اسی طرح تم (اس کے حضور پلٹ) کر جاؤگے۔
30
ایک گروہ کو تو اس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ پر گمراہی ثبت ہوگئی ہے۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور پھر وہ (اپنے متعلق) خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
Sonraki 30 ayet →