Ana SayfaMealler › H.Najafi
HN

H.Najafi

H.Najafi
H.Najafi meali ile okumaya başla
Enam 1 / 165
1
سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا پھر بھی جو کافر ہیں وہ دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
H.Najafi 6:1
2
وہ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر (زندگی کی) ایک مدت مقرر کی اور ایک مقررہ مدت اور بھی ہے جو اسی کے پاس ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو۔
H.Najafi 6:2
3
اور وہی (ایک) اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، جو تمہارے باطن و ظاہر اور جو کچھ تم بھلائی و برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔
H.Najafi 6:3
4
ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
H.Najafi 6:4
5
چنانچہ انہوں نے اس حق (قرآن) کو بھی جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا۔ سو عنقریب ان باتوں کی خبریں ان کے پاس آجائیں گی جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔
H.Najafi 6:5
6
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے دوروں کے لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیا جنہیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں بھی نہیں دیا ہے اور ہم نے ان پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائی۔ اور ہم نے ان کے نیچے نہریں بہائیں (انجامِ کار) ہم نے ان کے گناہوں (اور کفرانِ نعمت) کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسرے دور کی نسلیں پیدا کیں۔
H.Najafi 6:6
7
(اے رسول(ص)) اگر ہم کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی آپ پر اتارتے جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے۔ جب بھی کافر یہی کہتے کہ یہ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو۔
H.Najafi 6:7
8
اور وہ کہتے ہیں کہ اس (نبی(ص)) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ حالانکہ اگر ہم (کھلم کھلا) فرشتہ اتارتے تو پھر فیصلہ ہو چکا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
H.Najafi 6:8
9
اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو اسے بھی آدمی کی شکل میں اتارتے اور اس طرح گویا ہم انہیں وہ شبہ کرنے کا موقع دیتے جو اب وہ کر رہے ہیں۔
H.Najafi 6:9
10
آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے تو (آخرکار) ان کا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے آکر گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
H.Najafi 6:10
11
اے رسول(ص) ان سے کہیے کہ زمین میں چلو پھرو اور پھر دیکھو۔ کہ جھٹلانے والوں کا کیا (بھیانک) انجام ہوا۔
H.Najafi 6:11
12
(اے رسول(ص)) ان سے کہیے (پوچھئے) کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ کس کا ہے؟ کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے اس نے مخلوق پر رحمت کرنا اپنے اوپر لازم کر لی ہے (اس لئے جلدی سزا نہیں دیتا) وہ قیامت تک جس میں کوئی شک نہیں ہے تم سب کو اکٹھا کرتا رہے گا (پھر یکجا کرکے لائے گا) جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے اور نقصان میں ڈال دیا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
H.Najafi 6:12
13
اور اسی (اللہ تعالیٰ) کا ہے جو کچھ رات اور دن میں سکونت پذیر ہے وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
H.Najafi 6:13
14
(اے رسول(ص)) کہو کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا سرپرست بناؤں؟ جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے جو (ساری مخلوق کو) روزی دیتا ہے (کھلاتا ہے) مگر اس کو کوئی روزی نہیں دیتا (اسے کوئی نہیں کھلاتا)۔ کہو۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان (خدا کے سامنے سر تسلیم جھکانے والا) بن کر رہوں اور یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
H.Najafi 6:14
15
کہیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔ تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
H.Najafi 6:15
16
اس دن جس شخص سے عذاب ٹال دیا گیا اس پر اس (خدا) نے بڑا رحم کیا ہے۔ اور یہ بڑی نمایاں کامیابی ہے۔
H.Najafi 6:16
17
اگر خدا تمہیں کوئی ضرر و زیاں پہنچانا چاہے تو اس کے پاس اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
H.Najafi 6:17
18
وہ اپنے بندوں پر مکمل اختیار اور قابو رکھنے والا ہے اور وہ بڑا حکمت والا بڑا باخبر ہے۔
H.Najafi 6:18
19
(اے رسول(ص)) کہو کہ گواہی میں سب سے بڑھ کر کون سی چیز ہے؟ کہہ دیجیے کہ اللہ! جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور یہ قرآن بذریعہ وحی میری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں اور جس تک یہ پہنچے سب کو ڈراؤں۔ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہیں؟ کہیے کہ میں تو یہ گواہی نہیں دیتا۔ کہو وہ واحد و یکتا ہے۔ اور میں تمہارے شرک سے بری و بیزار ہوں۔
H.Najafi 6:19
20
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر(ص)) کو اس طرح پہنچاتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچاتے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے و نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
H.Najafi 6:20
21
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ یقینا ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
H.Najafi 6:21
22
اور جس دن ہم سب کو (میدانِ حشر میں) اکٹھا کریں گے۔ اور جو لوگ (دنیا میں) شرک کرتے رہے ہیں ان سے کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ (معبود) جن کو تم خدا کا شریک گمان کرتے تھے۔
H.Najafi 6:22
23
اس وقت ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی عذر نہ ہوگا کہ وہ کہیں گے ہمیں اپنے پروردگار اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے۔
H.Najafi 6:23
24
دیکھو وہ کس طرح اپنے ہی برخلاف جھوٹ بولنے لگے؟ اور ان کی وہ تمام افترا پردازیاں گم ہوگئیں جو وہ کیا کرتے تھے۔
H.Najafi 6:24
25
اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات غور سے سنتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں ہیں اور کانوں میں گرانی ڈال دی ہے کہ سنتے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ سارے کے سارے معجزے دیکھ لیں جب بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے بھی بحث و تکرار کرتے ہیں اور جو کافر ہیں (اور جنہوں نے بہرحال نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا ہے) وہ سب کچھ سن کر بھی کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) نہیں ہے مگر اگلے لوگوں کی (جھوٹی) داستانیں۔
H.Najafi 6:25
26
یہ ایسے (ناہنجار) ہیں کہ دوسروں کو بھی اس (پیغمبرِ اسلام یا قرآن) سے روکتے ہیں۔ اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور وہ (اپنی اس روش سے کسی اور کو نہیں) اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
H.Najafi 6:26
27
اور کاش تم (ان کی وہ حالت) دیکھو جب وہ آتشِ دوزخ پر کھڑے کئے جائیں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ کاش ہم واپس (دنیا میں) بھیج دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں سے ہو جائیں۔
H.Najafi 6:27
28
(یہ اسے لئے کہیں گے کہ) ان پر وہ بات واضح و عیاں ہوگئی ہے جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے (وہ ایسے ناہنجار ہیں کہ) اگر انہیں واپس بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا وہ باکل جھوٹے ہیں۔
H.Najafi 6:28
29
اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم (قبروں سے) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔
H.Najafi 6:29
30
اور کاش تم وہ منظر دیکھو جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ (قیامت) حق نہیں ہے؟ یہ کہیں گے ہاں حق ہے ہمیں اپنے رب کی قسم فرمائے گا تو اب اپنے کفر و انکار کی وجہ سے عذاب کا مزا چکھو۔
H.Najafi 6:30