1
(قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
2
اور اگر وہ کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو مستقل جادو ہے (جو پہلے سے چلا آرہا ہے)۔
3
اور انہوں نے (رسول(ص) کو) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے اور ثابت ہے۔
4
اور ان کے پاس ایسی (سابقہ قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (سرکشی کرنے والوں کیلئے) کافی سامانِ عبرت ہے۔
5
یعنی نہایت اعلیٰ حکمت اور دانشمندی مگر تنبیہات (ان کو) کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
6
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے رخ پھیر لیجئے جس دن ایک پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
7
(شدتِ خوف سے) آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے یوں نکل پڑیں گے کہ گویا بکھری ہوئی ہڈیاں ہیں۔
8
(دہشت سے) گردنیں بڑھائے پکارنے والے کی طرف دوڑتے جا رہے ہوں گے (اس دن) کافر کہیں گے کہ یہ بڑا دشوار دن ہے۔
9
ان سے پہلے قومِ نوح(ع) نے جھٹلایا سو انہوں نے ہمارے بندۂ خاص کو جھٹلایا اور ان پر جھوٹا ہو نے کا الزام لگایا اور اسے جھڑکا بھی گیا۔
10
آخر کار اس (نوح(ع)) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں۔ لہٰذا تو (ان سے) بدلہلے۔
11
پس ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے۔
12
اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دئیے پس (دونوں) پانی آپس میں مل گئے ایک کام کیلئے جو مقدر ہو چکا تھا۔
13
اور ہم نے اس (نوح(ع)) کو تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کیا۔
14
جو ہماری آنکھوں کے سا منے (ہماری نگرانی میں) چلتی تھی اور (یہ سب کچھ) اس شخص (نوح(ع)) کا بدلہ لینے کیلئے کیا گیا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔
15
اور ہم نے اسکو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
16
پس(دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟
17
بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان بنا دیا ہے سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔
18
قومِ عاد نے بھی (اپنے نبی(ع) کو) جھٹلایا تو دیکھو کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے؟
19
ہم نے ان پر تیز و تند آندھی بھیجی دائمی نحوست والے دن میں۔
20
وہ (آندھی) اس طرح آدمیوں کو اکھاڑ پھینکتی تھی کہ گویا وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔
21
پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے؟
22
بلاشبہ ہم نے نصیحت حاصل کرنے کیلئے قرآن کو آسان بنا دیا تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
23
قومِ ثمود نے ڈرانے والوں (پیغمبروں(ع)) کو جھٹلایا۔
24
پس انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے شخص کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے؟ اس صو رت میں تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ جائیں گے۔
25
کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا (اور) شیخی باز ہے۔
26
انہیں بہت جلد کل کلاں معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا (اور) شیخی باز ہے۔
27
ہم ایک (خاص) اونٹنی ان کی آزمائش کے لئے بھیج رہے ہیں پس تم (اے صالح(ع) انجامِ کار) انتظار کرو اور صبر کرو۔
28
اور انہیں آگاہ کر دو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگیا ہے اور ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوگا۔
29
پس ان لوگوں (یہودیوں) نے اپنے ساتھی (قدار) کو پکارا پس اس نے (اونٹنی کو) پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں۔
30
تو کیسا تھا میرا عذاب اورمیرے ڈراوے؟
Sonraki 25 ayet →