1
قَسم ہے ستارے کی جبکہ وہ ڈوبنے لگے۔
2
کہ تمہارا یہ ساتھی (پیغمبرِ اسلام(ص)) نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔
3
اور وہ (اپنی) خواہشِ نفس سے بات نہیں کرتا۔
4
وہ تو بس وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔
5
ان کو ایک زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے۔
6
جو بڑا صاحبِ قدرت (یا بڑا دانا و حکیم) ہے پھر (وہ اپنی اصلی شکل میں) کھڑا ہوا۔
7
جبکہ وہ آسمان کے بلند ترین کنارہ پر تھا۔
8
پھر وہ قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا۔
9
یہاں تک دو کمان کے برابریا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
10
پس اس (اللہ) نے اپنے بندہ (خاص) کی طرف وحی کی جو وحی کی۔
11
(رسول(ص) کے) دل نے جھوٹ نہیں کہا (جھٹلایا نہیں) جو کچھ (مصطفٰی(ص) کی) آنکھ نے دیکھا۔
12
کیا تم لوگ آپ(ص) سے اس بات پر جھگڑتے ہو جو کچھ انہوں نے دیکھا۔
13
اور آپ(ص) نے ایک بار اور بھی۔
14
اترتے ہوئے سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔
15
جہاں جنت الماوی (آرام سے رہنے کا بہشت) ہے۔
16
جب کہ سدرہ پر چھا رہا تھا (وہ نور) جو چھا رہا تھا۔
17
نہ آنکھ چندھیائی اور نہ حدسے بڑھی۔
18
یقیناً آپ(ص) نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
19
کیا تم نے کبھی لات و عزیٰ۔
20
اور تیسرے منات کو کبھی دیکھا ہے (ان کی اصلیت میں غور کیا ہے؟)
21
کیا تمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس(اللہ) کے لئے لڑکیاں؟
22
یہ تقسیم تو بڑی ظالمانہ ہے۔
23
یہ نہیں ہیں مگر صرف چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادانے رکھ لئے ہیں جس پر اللہ نے کوئی دلیل (سند) نہیں نازل کی یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی حالانکہ ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے ہدایت و رہنمائی آچکی۔
24
کیا انسان کو وہ چیز مل سکتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے؟
25
پس اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی (یعنی انجام بھی اور آغاز بھی)۔
26
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ جس کے لئے چاہے اجازت دے اور پسند کرے۔
27
بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
28
حالانکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں ہے وہ مخصوص ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ظنِ حق کے مقابلہ میں ذرا بھی کام نہیں دے سکتا۔
29
(اے رسول(ص)) آپ اس سے رُوگردانی کیجئے! جو ہمارے ذکر سے رُوگردانی کرتا ہے اور جو زندگانئ دنیا کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔
30
ان لوگوں کامبلغ علم یہی ہے (ان کے علم کی رسائی کی حد یہی ہے) آپ(ص) کا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا کون ہے؟ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ راہِ راست پر کون ہے؟
Sonraki 30 ayet →