2
قَسم ہے باعظمت قرآن کی (پیغمبرِ اسلام (ص) میرے سچے رسول ہیں) لیکن ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا (رسول) ان کے پاسایا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔
3
کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ تو بڑی بعید (از عقل) بات ہے۔
4
ہم خوب جانتے ہیں (ان اجزاء کو) جو زمین (کھا کر) ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو ایک ایسی کتاب ہے جس میں (سب کچھ) محفوظ ہے۔
5
بلکہ (دراصل بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے (دینِ) حق کو جھٹلایا جبکہ وہ ان کے پاسایا پس وہ ایک الجھی ہوئی بات میں مبتلا ہیں۔
6
کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے؟ اور آراستہ کیا ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔
7
اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور اس میں ہر قِسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔
8
ہر اس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لئے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
9
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغات اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اگایا۔
10
اور کھجور کے بلند وبالا درخت جن میں تہہ بہ تہہ خوشے لگتے ہیں۔
11
بندوں کی روزی کے لئے اور ہم اس مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں اسی طرح (مردوں کا) زمین سے نکلنا ہوگا۔
12
ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم، اصحابِ رس اور ثمود نے جھٹلایا۔
13
نیز عاد، فرعون، لوط(ع) کے بھائی۔
14
اور ایکہ والے اور تبع کی قوم ان سب نے پیغمبروں(ع) کو جھٹلایا آخر میری وعید کے مستحق ہو ئے۔
15
کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ ازسرِنو پیدائش کے بارے میں شبہ میں مبتلا ہیں۔
16
بےشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم وہ وسوسے جانتے ہیں جو اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی شہ رگ (حیات) سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
17
جبکہ دو اخذ کرنے والے (کراماً کاتبین) ایک دائیں جانب بیٹھا ہے اور دوسرا بائیں جانب (اور ہر چیز کو لکھ رہے ہیں)۔
18
وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہوتا ہے۔
19
اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ یہی وہ چیز ہے جس سے تو گریز کرتا رہتا تھا۔
20
اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا۔
21
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔
22
اے غا فل) تو اس دن سے غفلت میں رہا تو (آج) ہم نے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
23
اور اس کا (زندگی بھر کا) ساتھی کہے گا کہ جو میرے پاس تھا وہ حاضر ہے۔
24
تم دونوں جہنم میں جھونک دو ہر بڑے کافر کو جو(حق سے) عناد رکھتا تھا۔
25
جو نیکی و خیرات سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور شک کرنے والا اور دوسروں کو شک میں ڈالنے والا تھا۔
26
جس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی خدا بنا رکھا تھا۔ پس اس کو سخت عذاب میں جھونک دو۔
27
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار! میں نے تو اسے سرکش نہیں بنایا تھا مگر وہ خود ہی سخت گمراہی میں تھا۔
28
ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑا نہ کرو اور میں نے تو تمہیں پہلے عذاب سے ڈرایا تھا۔
29
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔
30
وہ دن یاد کرو جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟
Sonraki 15 ayet →