Ana SayfaMealler › H.Najafi
HN

H.Najafi

H.Najafi
H.Najafi meali ile okumaya başla
Maide 1 / 120
1
اے ایمان والو! اپنے عہدوں کو پورا کرو تمہارے لئے چوپائے، مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں۔ سوائے ان کے جن کا ذکر تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا۔ ہاں جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔
H.Najafi 5:1
2
اے ایمان والو! خدا کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ قربانی والے جانور کی اور نہ گلے میں پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کی اور نہ ان لوگوں کی (بے حرمتی کرو) جو اپنے پروردگار کا فضل و کرم اور اس کی رضامندی کے طلبگار بن کر بیت الحرام (مقدس گھر) کی طرف جا رہے ہیں اور جب احرام ختم ہو جائے (یا حرم سے باہر نکل جاؤ) تو شکار کر سکتے ہو۔ اور خبردار، تمہیں کسی قوم سے عداوت کہ اس نے تمہیں مسجد الحرام سے روک دیا تھا۔ اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (اس پر) ظلم و زیادتی کرو۔ اور نیکی و پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
H.Najafi 5:2
3
تم پر حرام کیا گیا ہے۔ مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے۔ اور گلا گھوٹا ہوا، یا جو چوٹ لگنے سے یا بلندی سے گر کر، یا سینگ لگنے سے مر جائے یا جسے کسی درندہ نے کھایا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو۔ اور وہ (بھی حرام ہے) جو قربان کیا جائے بتوں پر (یا کسی آستانے پر) نیز (وہ بھی حرام ہے) جو قرعہ کے تیروں سے تقسیم کیا جائے۔ یہ سب کام فسق (گناہ) ہیں۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے ہاں جو بھوک کی شدت سے مجبور ہو جائے (اور حرام چیزوں سے کوئی کھا لے) جبکہ گناہ کی طرف راغب نہ ہو تو اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
H.Najafi 5:3
4
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ کہہ دیجیئے کہ تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق (شکار پکڑنے کا) طریقہ سکھایا ہو تو جسے وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔ اس میں سے بھی کھا سکتے ہو۔ اور اس پر (شکار پر چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لو۔ اور اللہ سے (اس کی معصیت کاری سے) ڈرو۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
H.Najafi 5:4
5
آج تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اور اہل کتاب کا طعام (اناج) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا طعام (اناج) ان کے لئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں (اہل کتاب) کی پاکدامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے۔ (وہ تمہارے لئے حلال ہیں) بشرطیکہ تم ان کی اجرتیں (حق مہر) دے دو۔ اور وہ بھی اپنی پاکدامنی کے تحفظ کی خاطر نہ کہ آزاد شہوت رانی کی خاطر اور نہ ہی چوری چھپے ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ اور جو ایمان کا انکار کرے (اور کفر اختیار کرے) تو اس کے سب عمل اکارت ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
H.Najafi 5:5
6
اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو۔ اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
H.Najafi 5:6
7
اور یاد کرو اللہ کا وہ احسان جو اس نے تم پر کیا۔ اور اس کے عہد و پیمان کو جو اس نے تم سے لیا۔ جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ دلوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔
H.Najafi 5:7
8
اے ایمان والو! اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے اور راستی پر قائم رہنے والے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو (خبردار) کسی قوم سے دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ اور عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو۔ کہ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ سے ڈرو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
H.Najafi 5:8
9
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
H.Najafi 5:9
10
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی دوزخ والے ہیں۔
H.Najafi 5:10
11
اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے اس وقت تم پر کیا جب ایک گروہ نے ارادہ کیا تھا کہ وہ تمہاری طرف دست درازی کرے مگر اللہ نے (اپنی قدرت کاملہ سے) ان کو تم سے روک دیا۔ اللہ سے ڈرو۔ اور اہل ایمان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
H.Najafi 5:11
12
اور بلاشبہ اللہ نے بنی اسرائیل سے عہدوپیمان لیا تھا اور ہم نے بھی بارہ نقیب (سردار) مقرر کئے تھے۔ اور اللہ نے (ان سے) کہا تھا کہ بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو اگر تم نماز قائم رکھوگے، اور زکوٰۃ دیتے رہوگے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہوگے، اور ان کی مدد کرتے رہوگے اور اللہ کو قرضہ حسنہ دیتے رہوگے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا۔ (معاف کر دوں گا) اور تمہیں ان بہشتوں میں داخل کروں گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی مگر تم میں سے جس نے اس کے بعد کفر اختیار کیا وہ ضرور سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
H.Najafi 5:12
13
ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (اپنی رحمت سے دور کر دیا) اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ اب کلامِ (الٰہی) کو اس کی اصلی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں (تحریف کرتے ہیں) اور جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے ہیں (اے پیغمبر(ص)) ان کے معدودے چند آدمیوں کے سوا برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے لہٰذا انہیں معاف کر دیجیے اور ان سے درگزر کیجیے بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
H.Najafi 5:13
14
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں ان سے بھی پختہ عہد لیا تھا۔ سو جو کچھ بھی انہیں نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔ تو ہم نے (بطورِ سزا) قیامت تک ان کے درمیان بغض و عناد ڈال دیا۔ اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا کہ وہ (دنیا میں کیا کرتے تھے)۔
H.Najafi 5:14
15
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا وہ پیغمبر آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو کھول کر بیان کر رہا ہے۔ جنہیں تم اس کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (روشنی) اور واضح کتاب آگئی ہے۔
H.Najafi 5:15
16
جس کے ذریعہ سے خدا ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر چلاتا ہے جو اس کی رضا کی اتباع و پیروی کرتے ہیں اور ان کو تاریکیوں (گمراہی) سے اپنے اذن و توفیق سے نور (ہدایت) کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستہ پر لگاتا ہے۔
H.Najafi 5:16
17
یقینا وہ لوگ (نصرانی) کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ مسیح مریم کو ان کی ماں اور تمام اہل زمین کو ہلاک کرنا چاہے۔ تو اس کے آگے کس کا ذرا بھی بس چل سکتا ہے (کہ اسے روک دے) آسمانوں پر، زمین پر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ ان سب پر، اللہ ہی کی حکومت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے اور اللہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
H.Najafi 5:17
18
یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے کہو (پوچھو) پھر خدا تمہیں تمہارے گناہوں پر سزا کیوں دیتا ہے؟ (نہیں) بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے محض بشر (انسان) ہو۔ وہ جسے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے۔ سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ہے، سلطنت آسمانوں کی، زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
H.Najafi 5:18
19
اے اہلِ کتاب، ہمارا رسول جو کھول کر (ہمارے احکام) بیان کرتا ہے۔ ایسے وقت تمہارے پاس آیا کہ جب کچھ عرصہ سے رسولوں کی آمد کا سلسلہ بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، تو لو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
H.Najafi 5:19
20
وہ وقت یاد کرو۔ جب جناب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم اللہ کا وہ احسان یاد کرو۔ جو اس نے تم پر کیا۔ اس نے تم میں نبی بنائے اور تمہیں فرمانروا اور خودمختار بنایا۔ اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔
H.Najafi 5:20
21
اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور (مقابلہ کے وقت) پیٹھ دکھا کر نہ بھاگنا۔ ورنہ نقصان اٹھا کر لوٹو گے۔
H.Najafi 5:21
22
انہوں نے (جواب میں) کہا: اے موسیٰ اس زمین میں تو بڑے زبردست (جابر) لوگ رہتے ہیں اور ہم وہاں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں البتہ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہو جائیں گے۔
H.Najafi 5:22
23
اس وقت دو شخصوں نے جو (اللہ سے) ڈرنے والوں میں سے تھے۔ جنہیں اللہ نے (خصوصی) نعمت سے نوازا تھا۔ کہا۔ کہ تم ان (جباروں) پر چڑھائی کرکے دروازہ کے اندر گھس جاؤ اور جب تم اس کے اندر داخل ہوگے (تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے اور) تم غالب آجاؤگے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان دار ہو۔
H.Najafi 5:23
24
انہوں نے کہا موسیٰ! ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک وہ اس میں ہیں۔ لہٰذا آپ اور آپ کا خدا دونوں چلے جائیں اور جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
H.Najafi 5:24
25
موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔
H.Najafi 5:25
26
ﷲ نے فرمایا! پھر اب وہ (زمین) چالیس سال تک حرام ہے وہ لق و دق صحراء میں سرگردان پھرتے رہیں گے پس آپ اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کریں۔
H.Najafi 5:26
27
(اے رسول(ص)) آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا سچا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے) نے کہا میں تمہیں ضرور قتل کروں گا۔ پہلے نے کہا اللہ تو صرف متقیوں (پرہیزگاروں) کا عمل قبول کرتا ہے۔
H.Najafi 5:27
28
اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا۔ تو میں تمہیں قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ (کیونکہ) میں تو ڈرتا ہوں اس اللہ سے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
H.Najafi 5:28
29
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ سمیٹ لے جائے اور پھر دوزخیوں میں سے ہو جائے کہ ظالموں کی یہی سزا ہے۔
H.Najafi 5:29
30
تو (بالآخر) اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان بنا دیا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔
H.Najafi 5:30