2
قَسم ہے اس واضح کتاب کی۔
3
کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔
4
بےشک وہ (قرآن) اصل کتاب (لوحِ محفوظ) میں جو ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ (اور) حکمت والا ہے۔
5
کیا ہم محض اس لئے نصیحت سے منہ پھیرلیں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔
6
اور ہم نے پہلے لوگوں میں کتنے ہی نبی(ع) بھیجے ہیں۔
7
اور ان کے پاس کوئی نبی(ع) نہیںایا مگریہ کہ وہ اس کامذاق اڑاتے تھے۔
8
پھر ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو ان (موجودہ منکرین) سے زیادہ طاقتور تھے اور پہلے لوگوں کی مثال (حالت) گزر چکی ہے۔
9
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ انہیں اس ہستی نے پیدا کیا ہے جو غالب ہے اور ہمہ دان۔
10
وہی جس نے زمین کو تمہارے لئے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دئیے تاکہ تم (منزل تک) راہ پاؤ۔
11
اور جس نے ایک خاص مقدارمیں آسمان سے پا نی اتارا پھر ہم نے اس سے مردہ (خشک) زمین کو زندہ کر دیا اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔
12
اور جس نے تمام اِقسام کی چیزیں پیدا کیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
13
تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو اور پھر اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو اور کہو پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو اپنے قابو میں کرتے۔
14
اور بےشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لو ٹنے والے ہیں۔
15
اور ان لوگوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کا جزو قرار دیا ہے بیشک انسان کھلا ہوا ناشکراہے۔
16
کیا خدا نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں منتخب کی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کر دیا؟
17
اور جب ان میں سے کسی کو اس (بیٹی) کی بشارت دی جاتی ہے جسے وہ خدا کی صفت قرار دیتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے۔
18
کیا (خدا کیلئے وہ ہے) جو زیوروں میں پرورش پائے اور بحث و تکرار میں اپنا مدعا واضح نہ کر سکے؟
19
اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے کیا وہ ان کی پیدائش (اور جسمانی ساخت) کے وقت موجود تھے ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی۔
20
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان (بتوں) کی عبادت نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔
21
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔
22
بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر دیکھا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم پر راہ یاب ہیں۔
23
اور اسی طرح ہم نے آپ(ص) سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرا نے والا (پیغمبر(ع)) نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم تو انہی کے نقوشِ پاکی پیروی کر رہے ہیں۔
24
اس (نذیر) نے کہا گرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہلے کرایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ تم جس(دین) کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔
25
سو ہم نے ان سے انتقام لیا تو دیکھو کہ جھٹلا نے والوں کا کیا انجام ہوا؟
26
اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم(ع) نے اپنے باپ (تایا) اور اپنی قوم سے کہا میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
27
مگر وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری راہنمائی کرے گا (میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں)۔
28
اور وہ (ابراہیم(ع)) اسی (عقیدۂ توحید) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دے گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
29
اور (باوجود ان کی خلاف ورزی کرنے کے) میں ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے ساز و سامان سے بہرہ مندہ کرتا رہا یہاں تک کہ انکے پاس حق اور کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا۔
30
اور جب ان کے پاس حق آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔
Sonraki 30 ayet →