2
اس کتاب (قرآن) کا نزول اس اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
3
جو گناہ معاف کرنے والا (اور) توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا (اور) عطا و بخشش والا ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
4
اللہ کی آیتوں کے بارے میں صرف کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کا (مختلف) شہروں میں (آزادی) کے ساتھ گھومنا پھرنا کہیں آپ کو دھوکہ میں نہ ڈال دے (کہ انہیں عذاب نہیں ہوگا)۔
5
ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم نے (نوح(ع) کو) جھٹلایا اور ان کے بعد اور بہت سے گروہوں نے (اپنے رسولوں(ع) کو) جھٹلایا اور ہر امت نے ارادہ کیا کہ اپنے رسول(ع) کو گرفتار کرے (اور پھر شہید کر دے) اور ناحق طریقہ پر جھگڑا کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو شکست دے۔ سو (انجامِ کار) میں نے ان کو پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا (سخت) تھا۔
6
اور اسی طرح آپ(ص) کے پروردگار کا یہ فیصلہ کافروں پر ثابت ہو چکا کہ وہ سب دوزخی ہیں۔
7
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد میں وہ سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ پس تو ان لوگوں کو بخش دے جو توبہ کرتے ہیں اور تیرے راستہ کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
8
اے ہمارے پروردگار! اور ان کو ان ہمیشہ رہنے والے بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے آباء و اجداد، بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح اور لائق ہوں ان کو بھی (بخش دے اور وہیں ان کے ہمراہ داخل کر) بے شک تو غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
9
اور ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا لیا بس تو نے اس پر رحمت فرمائی اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
10
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا (قیامت کے دن) ان کو پکار کر کہا جائے گا کہ جتنا (آج) تم اپنے آپ سے بیزار ہو۔ اللہ اس سے زیادہ اس وقت تم سے بیزار (ناراض) ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر اختیار کرتے تھے۔
11
وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا بس اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا اب (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے؟
12
(جواب ملے گا کہ) یہ اس لئے ہے کہ جب (تمہیں) خدائے واحد و یکتا کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کر دیتے تھے اور اگر کسی کو اس کا شریک بنایا جاتا تھا تو تم جان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے جو عالیشان ہے (اور) بزرگ ہے۔
13
وہ (اللہ) وہی ہے جو تمہیں اپنی (قدرت کی ) نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے اور ان (نشانیوں) سے نصیحت صرف وہی حاصل کرتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے۔
14
پس اللہ ہی کو پکارو اس کے لئے دین کو (شرک و ریا سے) خالص کرتے ہوئے چاہے کافر ناپسند کریں۔
15
(وہ) بلند درجوں والا (اور) عرش کا مالک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (وحی) کو نازل کرتا ہے تاکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں حضوری والے دن سے ڈرائے۔
16
وہ دن جب لوگ ظاہر ہوں گے ان کی کوئی بات اللہ پر پوشیدہ نہ ہوگی (آواز آئے گی) آج کس کی حکومت ہے؟ (جواب ملے گا) صرف اللہ کی جو واحد و یکتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔
17
آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا آج کچھ بھی ظلم نہ ہوگا بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
18
اور لوگوں کو اس دن (قیامت) سے ڈرائیے جو قریب آنے والا ہے جس دن دل (کھینچ کر) گلوں تک آجائیں گے (اور) وہ غم و غصہ سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کیلئے کوئی (مخلص) دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے۔
19
وہ آنکھوں کی مجرمانہ جنبش کو جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جن کو سینے چھپاتے ہیں۔
20
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جنہیں وہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا (اور) بڑا دیکھنے والا ہے۔
21
کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ قوت کے لحاظ سے اور زمین میں چھوڑے ہوئے آثار کے اعتبار سے ان سے زیادہ طاقتور تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو ان کو اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
22
(ان کا یہ انجام) اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ع) ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آتے تھے تو وہ کفر کرتے تھے۔ آخرکار اللہ نے انہیں پکڑ لیا بیشک وہ بڑا طاقتور (اور) سخت سزا دینے والا ہے۔
23
بیشک ہم نے موسیٰ(ع) کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف اپنی نشانیوں (معجزوں) اور کھلی ہوئی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔
24
تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادوگر (اور) بڑا جھوٹا ہے۔
25
سو جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ چھوڑ دو۔ اور کافروں کی( ہر) تدبیر گمراہی میں (رائیگاں) ہے۔
26
اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں موسیٰ(ع) کو قتل کر دوں اور وہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے پرورگار کو پکارے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین (شرک) نہ بدل دے۔ یا زمین میں فساد برپا نہ کر دے۔
27
اور موسیٰ(ع) نے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے ہر اس متکبر (کے شر) سے بچائے جو روزِ حساب (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتا۔
28
اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مردِ مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب) کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے تو اس کا کچھ حصہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔
29
اے میری قوم! (بے شک) آج تمہاری حکومت ہے (اور) اس سر زمین میں تمہیں غلبہ بھی حاصل ہے لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ (اور اس سے ہمیں کون بچائے گا؟) (مؤمن کی یہ بات سن کر) فرعون نے کہا میں تمہیں وہی رائے دیتا ہوں۔ جو میں (درست) سمجھتا ہوں اور میں تمہاری راہنمائی صرف اسی راستہ کی طرف کرتا ہوں جو سیدھا ہے۔
30
اور جو شخص ایمان لایا تھا وہ کہنے لگا۔ اے میری قوم! مجھے تمہاری نسبت ڈر ہے کہ تم پر (تباہ شدہ) گروہوں جیسا دن نہ آجائے۔
Sonraki 30 ayet →