1
(اے انسانو!) اپنے اس پروردگار سے ڈرو۔ جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی سے (اس کی جنس سے) پیدا کیا اور پھر انہی دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور رشتہ قرابت کے بارے میں بھی ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر حاضر و ناظر ہے۔
2
اور یتیموں کے مال ان کے سپرد کرو۔ اور پاک مال کے بدلے ناپاک مال حاصل نہ کرو۔ اور ان کے مالوں کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
3
اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔
4
اور عورتوں کے حق مہر خوشدلی سے ادا کرو اور اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے تمہیں بخش دیں تو تم اسے شوق سے کھا سکتے ہو۔
5
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہاری زندگی کا سامان اور اسے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ناسمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں البتہ ان کو (کھانا و طعام) کھلاؤ اور (کپڑا) پہناؤ اور ان سے اچھی گفتگو کرو۔
6
اور یتیموں کی جانچ پڑتال کرتے رہو۔ یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر تک پہنچ جائیں اور تم ان میں اہلیت و سمجھداری بھی پاؤ تو پھر ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔ اور فضول خرچی سے کام لے کر اور اس جلد بازی میں کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں ان کا مال مت کھاؤ۔ اور جو سرپرست مالدار ہو تو اسے تو بہرحال ان کے مال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ اور جو نادار ہو اسے معروف (مناسب) طریقہ سے کھانا چاہیے۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرو۔ تو ان لوگوں کو گواہ بنا لو۔ اور یوں تو حساب کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
7
مردوں کے لیے اس ترکہ سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں خواہ وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (خدا کی طرف سے) لازمی مقرر ہے۔
8
اور جب تقسیم کے موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس (مال) میں سے کچھ دے دو اور ان سے درست اور مناسب طریقہ سے بات کرو۔
9
اور ترکہ تقسیم کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس و کمزور بچے چھوڑ جاتے۔ تو انہیں ان کی کس قدر فکر ہوتی۔ لہٰذا وہ دوسروں کے یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور بالکل درست اور سیدھی بات کریں
10
بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے (واصل جہنم ہوں گے۔)
11
اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ برابر ہے دو لڑکیوں کے اب اگر لڑکیاں ہی وارث ہوں اور ہوں بھی دو سے اوپر تو ان کو دو تہائی ترکہ دیا جائے گا اور ایک لڑکی (وارث) ہو تو اسے آدھا ترکہ دیا جائے گا۔ اور اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہوگا (اور باقی اولاد کا) اور اگر بے اولاد ہو۔ اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا (باقی ۳/۲ باپ کو ملے گا) اور اگر اس (مرنے والے) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی ۶/۵ بہن بھائیوں کو ملے گا) مگر یہ تقسیم اس وقت ہوگی، جب میت کی وصیت پوری کر دی جائے۔ جو وہ کر گیا ہو اور اس کا قرضہ ادا کر دیا جائے گا جو اس پر ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ یا تمہاری اولاد میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، یقینا اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔
12
اور جو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے آدھا تمہارے لئے ہوگا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہو تو پھر تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا۔ یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی، جو انہوں نے کی ہو اور اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہو۔ اور وہ (بیویاں) تمہارے ترکہ میں سے چوتھے حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے اولاد ہو تو پھر ان کا آٹھواں حصہ ہوگا اور (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو تم نے کی ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا ہو۔ اور اگر میت (جس کی وراثت تقسیم کی جانے والی ہے) کلالہ ہو یعنی مرد ہو یا عورت بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ نہ ہوں۔ مگر بھائی بہن ہوں تو اگر اس کا صرف ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل ترکہ کی ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے اور قرضہ کے ادا کرنے کے بعد ہوگی جو کی گئی (جبکہ وصیت کرنے والا وارثوں کو) ضرر پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے لازمی ہدایت ہے، اور اللہ بڑے علم و حلم والا ہے۔
13
یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
14
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا۔ تو اللہ اسے آتش دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
15
اور جو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو۔ اور اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ مقرر کرے۔
16
اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
17
توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
18
ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
19
اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو مگر یہ کہ وہ صریح بدکاری کا ارتکاب کریں (کہ اس صورت میں سختی جائز ہے) اور عورتوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو۔ اور اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔ مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
20
اور اگر تم ایک بیوی کو بدل کر اس کی جگہ دوسری لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو (جسے فارغ کرنا چاہتے ہو) بہت سا مال دے چکے ہو۔ تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم جھوٹا الزام لگا کر اور صریح گناہ کرکے (واپس) لینا چاہتے ہو۔
21
اور بھلا تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔ جبکہ تم (مقاربت کرکے) ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو؟ اور وہ تم سے پختہ عہد و پیمان لی چکی ہیں۔
22
جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔
23
تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (خوشدامنیں) اور تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم نے مباشرت کی ہے وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پا رہی ہیں اور اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر مباشرت نہیں ہوئی ہے۔ تو پھر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں (بہوؤیں) اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو۔ مگر جو پہلے ہو چکا ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
24
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو شوہردار ہوں۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو (شرعی جہاد میں) تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ آئین ہے، اللہ کا جو تم پر لازم ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال (حق مہر) کے عوض ان سے شادی کرلو۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں (کم و بیش پر) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔
25
اور تم میں سے جو شخص مالی حیثیت سے اس کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ وہ (خاندانی) مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کر سکے۔ تو وہ ان مسلمان لونڈیوں سے (نکاح کرلے) جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم (اسلام کی حیثیت سے) سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور بھلائی کے ساتھ ان کے حق مہر ادا کرو۔ تاکہ وہ (قید نکاح میں آکر) پاکدامن رہیں۔ اور شہوت رانی نہ کرتی پھریں۔ اور نہ ہی چوری چھپے آشنا بناتی پھریں۔ سو جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر اب بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں کی نصف سزا ہوگی۔ یہ رعایت (کہ خاندانی مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو کنیز سے نکاح کرنے کا جواز) اس شخص کے لئے ہے جسے (نکاح نہ کرنے سے) بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور اگر ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
26
اللہ چاہتا ہے کہ (تم سے اپنے احکام) کھول کر بیان کر دے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرے اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
27
اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے بھٹک کر) بہت دور نکل جاؤ۔
28
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ ہلکا کرے (کیونکہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
29
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔
30
اور جو شخص ظلم و تعدی سے ایسا کرے گا۔ تو ہم عنقریب اسے آتش (دوزخ) میں ڈالیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔
Sonraki 30 ayet →