1
ص! قَسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔
2
آپ(ص) کی (نبوت برحق ہے) بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ تکبر اور مخالفت میں مبتلا ہیں۔
3
ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دیں۔ پس (عذاب کے وقت) وہ پکارنے لگیں مگر وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔
4
اور وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا (پیغمبر(ص)) انہی میں سے آیا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (شخص) جادوگر (اور) بڑا جھوٹا ہے۔
5
کیا اس نے بہت سے خداؤں کو ایک خدا بنا دیا؟ بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے۔
6
اور ان کے بڑے لوگ (سردار) یہ کہتے ہوئے (آپ(ص) کے پاس سے) اٹھ کھڑے ہوئے (اور قوم سے کہا) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر صبر و ثبات سے قائم رہو (ڈٹے رہو) یقیناً اس بات میں (اس شخص کی) کوئی غرض ہے۔
7
ہم نے تو یہ بات (کسی) پچھلے مذہب (عیسائیت) میں (بھی) نہیں سنی یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے۔
8
کیا ہم میں سے صرف اسی شخص پر الذکر (قرآن) اتارا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میرے ذکر (کتاب) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔
9
کیا تمہارے غالب اور فیاض پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں؟
10
یا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کی حکومت ان کیلئے ہے (اگر ایسا ہے) تو پھر انہیں چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں۔
11
یہ (کفار کے) لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جسے وہاں (بمقامِ بدر) شکست ہوگی۔
12
اور ان سے پہلے قومِ نوح و عاد اور میخوں والا فرعون۔
13
اور ثمود اور قومِ لوط(ع) اور ایکہ والے (اپنے نبیوں کو) جھٹلا چکے ہیں یہ لوگ بڑے بڑے گروہ تھے۔
14
ان سب نے رسولوں(ع) کو جھٹلایا تو ہمارے عذاب کے مستوجب ہوئے۔
15
اور یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ (دوسری نَفَخ) کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد کچھ دیر نہ ہوگی۔
16
اور وہ (ازراہِ مذاق) کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کے (عذاب میں سے) ہمارا حصہ ہمیں حساب کے دن (قیامت) سے پہلے دے دے۔
17
(اے میرے رسول(ص)) جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے! اور ہمارے بندے داؤد(ع) کو یاد کیجئے جو قوت والے تھے بے شک وہ ہر معاملہ میں (اللہ کی طرف) بڑے رجوع کرنے والے تھے۔
18
ہم نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کر دیا تھا جو شام اور صبح کے وقت ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔
19
اور پرندوں کو بھی (جو تسبیح کے وقت) جمع ہو جاتے تھے (اور) سب (پہاڑ و پرند) ان کے فرمانبردار تھے (اور ان کی آواز پر آواز ملاتے تھے)۔
20
اور ہم نے ان کی حکومت کو مضبوط کر دیا تھا اور ان کو حکمت و دانائی اور فیصلہ کُن بات کرنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔
21
(اے رسول(ص)) کیا آپ تک مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پھاند کر (ان کے) محرابِ عبادت میں داخل ہوگئے۔
22
جب وہ اس طرح (اچانک اندر) جنابِ داؤد(ع) کے پاس پہنچ گئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریقِ مقدمہ ہیں ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور بے انصافی نہ کیجئے اور راہِ راست کی طرف ہماری راہنمائی کیجئے۔
23
(وجۂ نزاع یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اس پر بھی وہ کہتا ہے کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے۔
24
داؤد(ع) نے کہا اس شخص نے اتنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملانے کا مطالبہ کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے اور اکثر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان کے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور (یہ بات کہتے ہوئے) داؤد (ع) نے خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی اور اس کے حضور جھک گئے اور توبہ و انابہ کرنے لگے۔
25
اور ہم نے انہیں معاف کر دیا اور بے شک ان کیلئے ہمارے ہاں (خاص) تقرب اور اچھا انجام ہے۔
26
اے داؤد(ع)! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے پس حق و انصاف کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کیا کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی اور جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے اس لئے انہوں نے یوم الحساب (قیامت) کو بھلا دیا ہے۔
27
اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بے فائدہ پیدا نہیں کیا یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں پس کافروں کیلئے دوزخ کی بربادی ہے۔
28
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان لوگوں کی مانند بنا دیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں؟ یا کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟
29
یہ وہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل و فہم نصیحت حاصل کریں۔
30
اور ہم نے داؤد(ع) کو سلیمان(ع) (جیسا بیٹا) عطا کیا وہ بہت اچھا بندہ (اور اللہ کی طرف) بڑا رجوع کرنے والا تھا۔
Sonraki 30 ayet →