3
یقیناً آپ(ص) (خدا کے) رسولوں میں سے ہیں۔
4
(اور) سیدھے راستے پر ہی ہیں۔
5
(یہ قرآنِ) عزیز (غالب اور) بڑے مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔
6
تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو (براہِ راست کسی پیغمبر سے) ڈرایا نہیں گیا اس لئے وہ غافل ہیں۔
7
ان میں سے اکثر پر (ان کے تعصب و عناد کی وجہ سے) یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
8
ہم نے (ان کے پیہم کفر و عناد کی وجہ سے گویا) ان کی گردنوں میں (گمراہی اور شیطان کی غلامی کے) طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں اس لئے وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں (لہٰذا وہ سر جھکا نہیں سکتے)۔
9
اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر دی ہے (اس طرح) ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے پس وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔
10
ان کیلئے (دونوں باتیں) برابر ہیں خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
11
آپ تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمن سے ڈرے پس ایسے شخص کو مغفرت (بخشش) اور عمدہ اجر کی خوشخبری دے دیں۔
12
بے شک ہم ہی مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان کے وہ اعمال لکھ لیتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے ہیں اور ان کے وہ آثار بھی ثبت کرتے ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین میں جمع کر دیا ہے۔
13
اور (ان کو سمجھانے کیلئے) بطورِ مثال ایک خاص بستی کا قصہ سنائیں جب ان کے پاس (ہمارے) پیغام رساں آئے۔
14
(پہلے) ہم نے ان کی طرف دو (رسول) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تیسرے (رسول) کے ساتھ تقویت دی۔ چنانچہ تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں۔
15
ان لوگوں نے کہا تم بس ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدائے رحمٰن نے (تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم بالکل جھوٹ بول رہے ہو۔
16
رسولوں(ع) نے کہا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔
17
اور ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ہم (خدا کا پیغام) صاف صاف پہنچا دیں۔
18
تو بستی والوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں (کہ تمہارے آنے سے قحط پڑ گیا ہے) اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی۔
19
رسولوں نے کہا کہ تمہاری فالِ بد تو تمہارے ساتھ ہے! کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو یہ بات بدشگونی ہے)؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔
20
اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور کہا اے میری قوم! رسولوں(ع) کی پیروی کرو۔
21
ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور خود ہدایت یافتہ بھی ہیں۔
22
مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس ہستی کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے حالانکہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
23
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے خداؤں کو اختیار کروں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے اور نہ ہی وہ مجھے چھڑا سکیں۔
24
(اگر میں ایسا کروں) تو میں اس وقت کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوں گا۔
25
میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں تم میری بات (کان لگا کر) سنو (اور ایمان لے آؤ)۔
26
(انجامِ کار ان لوگوں نے اس مؤمن کو سنگسار کر دیا اور اس سے) کہا گیا کہ بہشت میں داخل ہو جا۔ وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔
27
کہ میرے پروردگار نے کس وجہ سے مجھے بخش دیا ہے اور مجھے معزز لوگوں میں سے قرار دیا ہے۔
28
اور ہم نے اس (کی شہادت) کے بعد نہ تو اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر اتارا اور نہ ہی ہم کو (اتنی سی بات کیلئے لشکر) اتارنے کی ضرورت تھی۔
29
وہ (سزا) تو صرف ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔
30
افسوس ہے (ایسے) بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Sonraki 30 ayet →