Ana SayfaMealler › H.Najafi
HN

H.Najafi

H.Najafi
H.Najafi meali ile okumaya başla
Sebe 1 / 54
1
ہر قِسم کی تعریف اس خدا کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی ہر قسم کی تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔
H.Najafi 34:1
2
وہ جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ بڑا رحم کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔
H.Najafi 34:2
3
اور کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ کہہ دیجئے! کہ وہ ضرور آئے گی مجھے قَسم ہے اپنے پروردگار کی جو عالم الغیب ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی ذرہ برابر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور نہ اس (ذرہ) سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر وہ کتابِ مبین میں (درج) ہے۔
H.Najafi 34:3
4
(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ خدا ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہی وہ (خوش قسمت) لوگ ہیں جن کیلئے بخشش اور باعزت رزق ہے۔
H.Najafi 34:4
5
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (انہیں جھٹلا کر ہمیں) ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یہی وہ (بدبخت) لوگ ہیں جن کیلئے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
H.Najafi 34:5
6
اور جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں وہ کچھ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور وہ غالب اور لائقِ ستائش (خدا) کے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
H.Najafi 34:6
7
اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) بالکل ریزہ ریزہ کر دیئے جاؤگے تو تم ازسرِنو پیدا کئے جاؤگے۔
H.Najafi 34:7
8
کیا یہ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے یا اسے جنون ہے (پیغمبرِ اسلام(ص) تو نہیں) بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور دور دراز کی گمراہی (سخت گمراہی) میں مبتلا ہیں۔
H.Najafi 34:8
9
کیا انہوں نے اسے نہیں دیکھا جو ان کے آگے پیچھے ہے (ان کو محیط ہے) یعنی آسمان و زمین! اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ بے شک اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بندہ کیلئے ایک نشانی ہے۔
H.Najafi 34:9
10
اور بلاشبہ ہم نے داؤد(ع) کو اپنے ہاں سے (بڑی) فضیلت عطا کی تھی (اور پہاڑوں سے کہا) اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا) اور ہم نے ان کیلئے لوہا نرم کر دیا۔
H.Najafi 34:10
11
اور ان سے کہا کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے میں مناسب اندازہ رکھو اور (اے آلِ داؤد(ع)) تم سب نیک عمل کرو (کیونکہ) تم لوگ جو کچھ کرتے ہو میں خوب دیکھ رہا ہوں۔
H.Najafi 34:11
12
اور ہم نے سلیمان(ع) کیلئے ہوا کو مسخر کر دیا جس کا صبح کا سفر ایک مہینہ کی راہ تک تھا اور شام کا ایک مہینہ کی راہ تک اور ہم نے ان کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کیا اور جنات میں سے کچھ ایسے تھے جو ان (سلیمان(ع)) کے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان (جنوں) میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تھا ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔
H.Najafi 34:12
13
وہ ان کیلئے وہ کچھ کرتے تھے جو وہ چاہتے تھے (جیسے) محرابیں (مقدس اونچی عمارتیں) اور مجسمے اور بڑے بڑے پیالے جیسے حوض اور گڑی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد(ع) کے خاندان والو! (میرا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔
H.Najafi 34:13
14
اور جب ہم نے سلیمان(ع) پر موت کا فیصلہ نافذ کیا (اور وہ فوت ہوگئے) تو ان کی موت کا پتہ ان (جنات) کو نہیں دیا مگر اس دیمک نے جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی تو جب (عصا کھوکھلا ہوگیا اور) آپ زمین پر گرے تو جنات پر اصلی حالت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (اتنے عرصے تک) اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔
H.Najafi 34:14
15
قبیلہ سباء والوں کیلئے ان کی آبادی میں (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی موجود تھی (یعنی) دو باغ تھے دائیں اور بائیں (اور ان سے کہہ دیا گیا) کہ اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر ہے پاک و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا۔
H.Najafi 34:15
16
پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔
H.Najafi 34:16
17
یہ ہم نے انہیں ان کے ناشکراپن کی پاداش میں سزا دی اور کیا ہم ایسی سزا ناشکرے انسان کے سوا کسی اور کو دیتے ہیں؟
H.Najafi 34:17
18
اور ہم نے ان کے اور ان کی بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت دی تھی (سرِ راہ) کئی اور نمایاں بستیاں بسا دیں اور ہم نے ان میں سفر کی منزلیں ایک اندازے پر مقرر کر دیں کہ (جب چاہو) راتوں میں، دنوں میں امن و عافیت سے چلو پھرو۔
H.Najafi 34:18
19
(مگر) انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں (ان کی مسافتوں) کو دور دراز کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ہم نے انہیں (برباد) کرکے افسانہ بنا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے (اور) بہت شکر کرنے والے کیلئے۔
H.Najafi 34:19
20
بیشک شیطان نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا خیال سچا کر دکھایا چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی۔ سوائے اہلِ ایمان کے ایک گروہ کے۔
H.Najafi 34:20
21
اور شیطان کو ان پر ایسا اقتدار نہیں تھا کہ جس سے وہ بے اختیار ہو جائیں لیکن یہ سب کچھ اس لئے کہ ہم معلوم کریں کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس سے متعلق شک میں ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگران و نگہبان ہے۔
H.Najafi 34:21
22
اے رسول(ص)! (ان مشرکین سے) کہیے! تم ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو( پھر دیکھو) وہ ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں، نہ آسمانوں اور زمین میں اور نہ ہی ان کی ان دونوں (کی ملکیت) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس (اللہ) کا مددگار ہے۔
H.Najafi 34:22
23
اور نہ اس (اللہ) کے ہاں کوئی سفارش (کسی کو کوئی) فائدہ دے گی مگر اس کے حق میں جس کیلئے وہ اجازت دے گا (اور جس کو دے گا) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا کہا ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اس نے حق کہا ہے اور وہ بلند و بالا اور بزرگ و برتر ہے۔
H.Najafi 34:23
24
آپ کہیے! کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے؟ (پھر) فرمائیے! کہ اللہ! اور بے شک ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں؟ ۔
H.Najafi 34:24
25
آپ کہہ دیجئے! کہ تم سے ہمارے جرائم کی بابت بازپرس نہیں ہوگی اور نہ ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔
H.Najafi 34:25
26
آپ کہیے (ایک دن) ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا (حاکم اور) بڑا جاننے والا ہے۔
H.Najafi 34:26
27
آپ کہیے! (ذرا) مجھے تو دکھاؤ وہ جنہیں تم نے شریک بنا کر اس (اللہ) کے ساتھ ملا رکھا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ وہ اللہ ہی ہے جو بڑا غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
H.Najafi 34:27
28
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کیلئے بشیر و نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
H.Najafi 34:28
29
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟
H.Najafi 34:29
30
آپ کہیے! تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔
H.Najafi 34:30