1
اے لوگو! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے ڈرو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔
2
جس دن تم اسے دیکھوگے کہ ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچہ) سے غافل ہو جائے گی جسے وہ دودھ پلاتی ہے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اور تم لوگوں کو نشہ میں مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ نشہ میں مدہوش نہیں ہوں گے۔ مگر اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔
3
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر کج بحثی کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔
4
جس (مردود) کے بارے میں لکھا جا چکا ہے کہ جو کوئی اس کو دوست بنائے گا وہ ضرور اسے گمراہ کرے گا۔ اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا۔
5
اے لوگو! اگر تمہیں (دوبارہ) اٹھائے جانے میں شک ہے تو (اس میں تو کوئی شک نہیں کہ) ہم نے تمہیں مٹي سے پیدا کیا ہے پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو متشکل (مکمل تخلیق والا) بھی ہوتا ہے اور غیر متشکل (نامکمل تخلیق والا) بھی۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ہم تم پر (اپنی قدرت کی کار فرمائی) واضح کریں اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تمہیں بچے کی صورت میں باہر نکالتے ہیں پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ اپنی پوری قوت کی منزل (جوانی) تک پہنچو۔ پھر تم میں سے بعض کو تو (بڑھاپے سے پہلے) اٹھا لیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہے تو جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔
6
یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے۔ اور بےشک وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
7
اور قیامت ضرور آنے والی ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور یقیناً اللہ انہیں زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔
8
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے، بغیر کسی راہنمائی کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کج بحثی کرتے ہیں۔
9
(غرور سے) اپنے شانے کو موڑے ہوئے (اور گردن اکڑائے ہوئے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
10
تب اسے بتایا جائے گا کہ یہ سب کچھ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا ہرگز اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
11
اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو کنارہ پر رہ کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے (یا کوئی مصیبت پہنچ جائے) تو فوراً (اسلام سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھایا اور یہ کھلا ہوا خسارہ ہے۔
12
وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچاتا ہے اور نہ نفع۔ یہی تو انتہائی گمراہی ہے۔
13
وہ ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ہی برا ہے آقا اور کیا ہی برا ہے ساتھی۔
14
بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ وہ کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔
15
جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے۔ پھر دیکھے کہ آیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کر سکتی ہے جو اسے غصہ میں لا رہی تھی۔
16
اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو نازل کیا ہے روشن دلیلوں کی صورت میں اور بےشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
17
بےشک جو اہلِ ایمان ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں اور جو مشرک ہیں یقیناً قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
18
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز اللہ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی اور بہت سے انسان وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے بیشک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔
19
یہ دو فریق ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں باہم جھگڑ رہے ہیں تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔
20
(اور) جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔
21
اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔
22
جب بھی چاہیں گے کہ اس (جہنم) سے نکل کر رنج و غم سے چھٹکارا پائیں تو پھر اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی آگ کا مزہ چکھو۔
23
جو لوگ ایمان لائے اور اس کے ساتھ نیک عمل بھی کئے بےشک اللہ ان کو ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی (کے ہار) پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔
24
(یہ اس لئے ہے کہ) انہیں پاکیزہ گفتگو کی طرف ہدایت دی گئی اور انہیں لائق ستائش (خدا) کی راہ کی طرف راہنمائی کی گئی۔
25
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (لوگوں) کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس مسجد سے جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کیلئے (عبادت گاہ) بنایا ہے جس میں وہاں کے رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں ظلم و زیادتی کے ساتھ غلط روی کا ارادہ کرے تو ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
26
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے ابراہیم (ع) کیلئے خانہ کعبہ کی جگہ معین کر دی۔ (اور حکم دیا کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کیلئے پاک رکھنا۔
27
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہ لوگ (آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے) آپ کے پاس آئیں گے۔ پیادہ پا اور ہر لاغر سواری پر کہ وہ سواریاں دور دراز سے آئی ہوں گی۔
28
تاکہ وہ اپنے فائدوں کیلئے حاضر ہوں اور مقررہ (دنوں میں خدا کا نام لیں) ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے۔ پس خود بھی ان سے کھاؤ اور حاجت مند فقیر کو بھی کھلاؤ۔
29
پھر لوگوں کو چاہیئے کہ اپنی میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طواف کریں۔
30
یہ ہے حج اور اس کے مناسک کی بات! جو اللہ کی محترم چیزوں کی تعظیم کرتا ہے۔ تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں۔ بجز ان کے جو تم سے بیان کئے جاتے رہتے ہیں۔ پس تم بتوں کی گندگی سے پرہیز کرو۔ اور راگ گانے کی مجلس سے اجتناب کرو۔
Sonraki 30 ayet →