1
ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندہ (خاص) پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں رکھی۔
2
بالکل سیدھی اور ہموار تاکہ وہ (مکذبین کو) اللہ کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان اہل ایمان کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے۔
3
جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
4
اور تاکہ وہ ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔
5
اس بارے میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کو کوئی علم تھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ یہ لوگ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔
6
(اے پیغمبر(ص)!) شاید آپ ان کے پیچھے اس رنج و افسوس میں اپنی جان دے دیں گے کہ وہ اس کلام پر ایمان نہیں لائے۔
7
بے شک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے زمین کی زینت بنایا ہے۔ تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں کہ عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔
8
اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے (ایک دن) چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔
9
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ کہف و رقیم (غار اور کتبے) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب نشانی تھے؟
10
جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی اور کہا اے ہمارے پروردگار! اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے اس کام میں ہدایت کا سامان مہیا فرما۔
11
تو ہم نے غار میں کئی برسوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈال دیا۔
12
پھر ہم نے انہیں اٹھایا۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون اپنے ٹھہرنے کی مدت کا زیادہ ٹھیک شمار کر سکتا ہے۔
13
(اے رسول(ص)) ہم آپ کو ان کا اصل قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔
14
اور ہم نے ان کے دل اس وقت اور مضبوط کر دیئے جب وہ کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ ہم اس کے سوا اور کسی کو معبود ہرگز نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم بالکل ناحق بات کے مرتکب ہوں گے۔
15
یہ ہماری قوم ہے جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور خدا اپنا لئے ہیں، یہ لوگ ان کی خدائی پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ پس اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔
16
اور (پھر آپس میں کہنے لگے) اب جب کہ تم نے ان لوگوں سے اور ان کے ان معبودوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں علیٰحدگی اختیار کر لی ہے تو غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت (کا سایہ) تم پر پھیلائے گا۔ اور تمہارے اس کام کے لئے سروسامان مہیا کر دے گا۔
17
اور (وہ غار اس طرح واقع ہوئی ہے کہ) تم دیکھوگے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں طرف مڑ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا کر نکل جاتا ہے۔ اور وہ ایک کشادہ جگہ پر (سوئے ہوئے) ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک (نشانی) ہے جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے تو تم اس کے لئے کوئی یار و مددگار اور راہنما نہیں پاؤگے۔
18
اور تم انہیں دیکھو تو خیال کرو کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلواتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو تم الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہو۔ اور تمہارے دل میں دہشت سما جائے۔
19
اور (جس طرح انہیں اپنی قدرت سے سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں سوال و جواب کریں۔ چنانچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہوگے؟ دوسروں نے کہا ہم ایک دن ٹھہرے ہوں گے یا دن کا کچھ حصہ (پھر) بولے تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنا ٹھہرے؟ اچھا اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو۔ وہ (جا کر) دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاک و پاکیزہ ہے۔ تو وہ اس میں سے کچھ کھانا تمہارے لئے لائے۔ اور اسے چاہیے کہ ہوش و تدبر سے کام لے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔
20
یقیناً اگر ان لوگوں کو تمہاری اطلاع ہوگئی تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا پھر (زبردستی) تمہیں اپنے دین کی طرف واپس لے جائیں گے اور اس طرح تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکوگے۔
21
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کیا تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچھا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ (بستی والے) لوگ ان (اصحافِ کہف) کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے (کہ کیا کیا جائے؟) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے۔
22
عنقریب کچھ لوگ کہہ دیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ کہہ دیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور بہت کم لوگوں کو ان کا علم ہے۔ سو ان کے بارے میں سوائے سرسری گفتگو کے لوگوں سے زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں۔
23
اور آپ کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ میں کل اسے ضرور کروں گا۔
24
مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی اس کے ساتھ انشاء اللہ کہا کرو) اور جب بھی بھول جائیں تو اپنے پروردگار کو یاد کریں۔ اور آپ کہہ دیجئے! کہ امید ہے کہ میرا پروردگار ایسی بات کی مجھے راہنمائی کرے جو رشد و ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔
25
اور وہ لوگ غار میں رہے نو برس اوپر تین سو سال۔
26
کہہ دیجئے! کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنا رہے؟ تمام آسمانوں اور زمین کا (علمِ) غیب اسی کے لئے ہے وہ کتنا بڑا دیکھنے والا اور کتنا بڑا سننے والا ہے۔ اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی سرپرست نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو اپنے حکم میں شریک کرتا ہے۔
27
(اے رسول) آپ کے پروردگار کی طرف کتاب (قرآن) کے ذریعہ سے جو وحی کی گئی ہے۔ اسے پڑھ سنائیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور آپ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔
28
(اے رسول(ص)!) جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں آپ ان کی معیت پر صبر کریں۔ اور دنیا کی زینت کے طلبگار ہوتے ہوئے ان کی طرف سے آپ کی آنکھیں نہ پھر جائیں۔ اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل چھوڑ رکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے اس کی اطاعت نہ کریں۔
29
اور آپ کہہ دیجئے کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ بے شک ہم نے ظالموں کیلئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناطیں انہیں گھیر لیں گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا۔ جو چہروں کو بھون ڈالے گا کیا بری چیز ہے پینے کی۔ اور کیا بری آرام گاہ ہے۔
30
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ یقینا ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
Sonraki 30 ayet →