1
اللہ کا حکم (عذاب) آگیا ہے پس تم اس کے لئے جلدی نہ کرو وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
2
وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے فرشتوں کو روح کے ساتھ نازل کر دیتا ہے کہ لوگوں کو خبردار کر دو (ڈراؤ) کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے پس مجھ ہی سے ڈرو۔
3
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ جن چیزوں کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں وہ ان سے بلند و بالا ہے۔
4
اس نے انسان کو نطفہ (پانی کی ایک بوند) سے پیدا کیا پھر وہ ایک دم کھلم کھلا جھگڑالو بن گیا۔
5
اور اسی نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس بھی ہے اور دوسرے فائدے بھی اور انہی سے بعض کا تم گوشت کھاتے ہو۔
6
اور ان (چوپاؤں) میں تمہارے لئے زیب و زینت بھی ہے جب شام کو واپس لاتے ہو اور صبح جب (چراگاہ کی طرف) لے جاتے ہو (اس وقت ان کا منظر کیسا خوش آئند ہوتا ہے)۔
7
اور یہ (جانور) تمہارے بوجھوں کو اٹھاتے ہیں۔ اور ان (دور دراز) شہروں تک پہنچاتے ہیں جن تک تم بڑی جانکاہی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے بے شک تمہارا پروردگار تمہارا شفیق و بڑا مہربان ہے۔
8
اور اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور اپنے لئے انہیں زینت بناؤ اور خدا وہ کچھ پیدا کرتا ہے (اور کرے گا) جو تم نہیں جانتے۔
9
اور سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کرنا اللہ کی ذمہ داری ہے اور ان میں کچھ راستے کج بھی ہوتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ (زبردستی) چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔
10
وہ وہی ہے جس نے تمہارے (فائدے کے لئے) آسمان سے پانی برسایا جس سے تم پیتے بھی ہو اور جس سے وہ درخت (اور سبزے اگتے ہیں) جن میں تم (اپنے جانور) چراتے ہو۔
11
اسی (پانی) سے وہ (خدا) تمہارے لئے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔
12
اور اسی نے تمہارے لئے رات، دن، سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے (تمہارے کام میں لگا دیا ہے) اور ستارے بھی مسخّر ہیں (یہ سب تسخیر) اسی کے حکم سے ہے بے شک اس میں عقل سے کام لینے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔
13
اور اس نے تمہارے لئے زمین میں جو رنگ برنگ کی چیزیں پیدا کی ہیں اور مسخر کی ہیں اس میں سوچنے سمجھنے اور نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔
14
اور وہ وہی ہے جس نے سمندر (کو تمہارا) مسخر کر دیا تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور کی چیزیں (موتی وغیرہ) نکالو جنہیں تم (آرائش کیلئے) پہنتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کو چیرتی پھاڑتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔
15
اور اس (خدا) نے زمین میں بھاری بھر کم پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ تمہیں لے کر کہیں ڈھلک نہ جائے اور اس نے نہریں رواں دواں کر دیں اور راستے بنائے تاکہ تم (خشکی و تری میں) راہ پاؤ (اور منزل مقصود تک پہنچ جاؤ)۔
16
اور اس نے (قطعِ مسافت اور راستہ بتانے کے لئے) مختلف علامتیں مقرر کیں اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ پاتے ہیں۔
17
کیا وہ (خدا) جو پیدا کرتا ہے، اس کی مانند ہے جو کچھ پیدا نہیں کرتا؟ کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
18
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے بےشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔
19
اللہ وہ (سب کچھ) جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔
20
اور اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے (بلکہ) وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں۔
21
وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ انہیں تو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ انہیں یا ان کے پجاریوں کو (دوبارہ) کب اٹھایا جائے گا؟
22
تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے سو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ بڑے مغرور ہیں۔
23
یقینا اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو وہ (دلوں میں) چھپاتے ہیں اور اسے بھی جو وہ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
24
اور جب ان سے کہا (پوچھا) جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں (کچھ بھی نہیں) بس اگلے لوگوں کی (فرسودہ) داستانیں ہیں۔
25
اس کا انجام یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اپنے گناہوں کا بھی پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور کچھ بوجھ ان کا بھی اٹھائیں گے جنہیں یہ بے سمجھے گمراہ کر رہے ہیں (دیکھو) کیا ہی برا بوجھ ہے وہ جو یہ اٹھا رہے ہیں؟
26
جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے بھی (دعوتِ حق کے خلاف) مکاریاں کی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی (مکاریوں والی) عمارت بنیاد سے اکھیڑ دی اور اس کی چھت اوپر سے ان پر آپڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آیا جدھر سے ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔
27
پھر قیامت کے دن وہ (اللہ) انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور کہے گا کہ (بتاؤ) کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے بارے میں تم (اہلِ حق سے) لڑا جھگڑا کرتے تھے (اس وقت) وہ لوگ کہیں گے جن کو (حقیقت کا) علم دیا گیا تھا کہ آج کے دن رسوائی اور برائی ان کافروں کے لئے ہے۔
28
کہ جن کی روحیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اس وقت انہوں نے (سپر ڈال دی تھی اور) صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے (ان سے کہا گیا) ہاں (تم نے ضرور برائی کی تھی) تم لوگ جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔
29
پس اب جہنم کے دروازوں میں سے (جہنم میں) داخل ہو جاؤ اب تمہیں ہمیشہ کے لئے اسی میں رہنا ہے پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔
30
اور جب صاحبانِ تقویٰ سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ سراسر خیر و خوبی نازل کی ہے جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی ان کے لئے یہاں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو یقیناً اور بھی بہتر ہے اور متقیوں کا گھر کیا ہی خوب ہے؟
Sonraki 30 ayet →