Ana SayfaMealler › H.Najafi
HN

H.Najafi

H.Najafi
H.Najafi meali ile okumaya başla
İbrahim 1 / 52
1
الف، لام، را۔ (اے رسول(ص)) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ پر اس لئے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی کی طرف لائیں (یعنی) اس خدا کے راستہ کی طرف جو غالب (اور) قابل تعریف ہے۔
H.Najafi 14:1
2
وہ اللہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور تباہی و بربادی ہے سخت عذاب کی وجہ سے ان کافروں کیلئے۔
H.Najafi 14:2
3
جو دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے ٹیڑھا بنا دیں یہ لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں۔
H.Najafi 14:3
4
اور ہم نے (دنیا میں) جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے تو اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ ان کیلئے (پیغامِ خداوندی) کھول کر بیان کرے پس اللہ جسے چاہتا ہے (توفیق سلب کرکے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ (سب پر) غالب ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
H.Najafi 14:4
5
اور بے شک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا (اور حکم دیا) کہ اپنی قوم کو (کفر کے) اندھیروں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لائے اور انہیں اللہ کے مخصوص دن یاد دلاؤ یقینا اس (یاددہانی) میں ہر بڑے صبر و شکر کرنے والے کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔
H.Najafi 14:5
6
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا یعنی اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں سخت عذاب پہنچاتے تھے اور وہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔
H.Najafi 14:6
7
اور یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تمہیں مطلع کر دیا تھا کہ اگر (میرا) شکر ادا کروگے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر کفرانِ نعمت (ناشکری) کروگے تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔
H.Najafi 14:7
8
اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے سب لوگ کفر اختیار کریں تو اللہ کو اس کی کیا پروا ہے وہ یقیناً بے نیاز (اور) قابلِ ستائش ہے۔
H.Najafi 14:8
9
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے (یعنی) قومِ نوح(ع) اور عاد و ثمود(ع) اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ جب ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں (معجزے) لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبا لئے اور کہا کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور تم جس (دین) کی طرف ہمیں دعوت دیتے ہو ہم اس کی طرف سے تردد آمیز شک میں ہیں۔
H.Najafi 14:9
10
ان کے رسولوں نے کہا کیا (تمہیں) اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے اس پر ان لوگوں نے کہا تم نہیں ہو مگر ہمارے جیسے بشر (اور انسان) تم چاہتے ہو کہ جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے آئے ہیں ہمیں ان کی عبادت سے روکو! سو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا (ہمارا مطلوبہ) معجزہ لاؤ۔
H.Najafi 14:10
11
ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ بے شک ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر (اور انسان) مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا احسان فرماتا ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم تمہیں کوئی کھلی ہوئی دلیل (معجزہ) پیش کریں مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر ہی اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیئے۔
H.Najafi 14:11
12
آخر ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں ہماری (زندگی کی) راہوں کی راہنمائی کی ہے اور تم ہمیں جو ایذائیں پہنچا رہے ہو ہم ان پر صبر کریں گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیئے۔
H.Najafi 14:12
13
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ اور تب ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے۔
H.Najafi 14:13
14
اور ان کے بعد ہم تمہیں اس سر زمین میں آباد کریں گے یہ (وعدہ) ہر اس شخص کے لئے ہے جو میری بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری تہدید سے خائف ہو۔
H.Najafi 14:14
15
اور انہوں (رسولوں) نے (ہم سے) فتح مندی طلب کی (جو قبول ہوئی) اور ہر سرکش ضدی (حق کی مخالفت کرنے والا) نامراد ہوا۔
H.Najafi 14:15
16
اس (نامرادی) کے پیچھے جہنم ہے اور اسے کچ لہو قسم کا پانی پلایا جائے گا۔
H.Najafi 14:16
17
جسے وہ گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا اور ہر طرف سے اس کے پاس موت آئے گی مگر وہ مرے گا نہیں اور (مزید برآں) اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا۔
H.Najafi 14:17
18
جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی حالت اس راکھ جیسی ہے جسے سخت آندھی والے دن ہوا اڑا لے جائے جو کچھ انہوں نے کیا (کمایا) اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا یہی بہت بڑی گمراہی ہے۔
H.Najafi 14:18
19
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو حق (و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے۔ (فنا کر دے) اور نئی مخلوق کو لے آئے۔
H.Najafi 14:19
20
اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
H.Najafi 14:20
21
اور (قیامت کے دن) وہ سب ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ تو جو کمزور (پیروکار) ہوں گے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے (سردار) بنے ہوئے تھے کہ ہم تو (زندگی بھر) تمہارے پیروکار تھے تو تم آج ہمیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچا سکتے ہو؟ وہ (بڑے) کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دیتے اب ہمارے لئے برابر ہے جزع فزع کریں یا صبر کریں۔ آج ہمارے لئے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
H.Najafi 14:21
22
اور جب (ہر قسم کا) فیصلہ ہو جائے گا تو اس وقت شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی تسلط (زور) تو تھا نہیں سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (کفر اور گناہ کی) دعوت دی اور تم نے میری دعوت قبول کر لی پس تم مجھے ملامت نہ کرو (بلکہ) خود اپنے آپ کو ملامت کرو (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو اس سے پہلے (دنیا میں) جو تم نے مجھے (خدا کا) شریک بنایا تھا میں اس سے بیزار ہوں بے شک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
H.Najafi 14:22
23
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ان بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اپنے پروردگار کے حکم سے ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں ان کی باہمی دعا (بوقت ملاقات) سلام ہوگا۔ (سلامٌ علیکم تم پر سلامتی ہو)۔
H.Najafi 14:23
24
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح اچھی مثال بیان کی ہے کہ کلمۂ طیبہ (پاک کلمہ) شجرۂ طیبہ (پاکیزہ) درخت کی مانند ہے۔ جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔
H.Najafi 14:24
25
جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں پیش کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور سمجھیں)۔
H.Najafi 14:25
26
اور کلمۂ خبیثہ (ناپاک کلمہ) کی مثال شجرۂ خبیثہ (ناپاک درخت) کی سی ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے اور اس کے لئے ثبات و قرار نہ ہو۔
H.Najafi 14:26
27
اللہ ایمان والوں کو قولِ ثابت پر ثابت قدم رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور ظالموں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
H.Najafi 14:27
28
کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمت کو کفرانِ نعمت سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں یعنی دوزخ میں جا اتارا۔
H.Najafi 14:28
29
جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ (کیسا) برا ٹھکانا ہے۔
H.Najafi 14:29
30
اور انہوں نے اللہ کے لئے کچھ ہمسر (شریک) بنا لئے ہیں تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستے سے بھٹکائیں (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ (چندے) عیش کر لو آخر یقینا تمہاری بازگشت آتش دوزخ کی طرف ہے۔
H.Najafi 14:30