1
میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں
2
اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں
3
کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے
4
یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں
5
بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے
6
وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے
7
تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی
8
اور چاند کو گہن لگ جائے گا
9
اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے
10
اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے
11
ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے
12
اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے
13
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں
14
بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے
15
چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے
16
دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں
17
یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں
18
پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں
19
پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے
20
نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو
21
اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو
22
اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے
23
اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے
24
اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے
25
جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے
26
ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی
27
اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
28
اور مرنے والے کو خیال ہوگا کہ اب سب سے جدائی ہے
29
اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی
30
آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا
Sonraki 10 ayet →