2
یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے
3
اس کتاب کی آیتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں عربی زبان کا قرآن ہے اس قوم کے لئے جو سمجھنے والی ہو
4
یہ قرآن بشارت دینے والا اور عذاب الہٰی سے ڈرانے والا بناکر نازل کیا گیا ہے لیکن اکثریت نے اس سے اعراض کیا ہے اور وہ کچھ سنتے ہی نہیں ہیں
5
اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل جن باتوں کی تم دعوت دے رہے ہو ان کی طرف سے پردہ میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بہراپن ہے اور ہمارے تمہارے درمیان پردہ حائل ہے لہذا تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کررہے ہیں
6
آپ کہہ دیجئے کہ میں بھی تمہارا ہی جیسا بشر ہوں لیکن میری طرف برابر وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہے لہٰذا اس کے لئے استقامت کرو اور اس سے استغفارکرو اور مشرکوں کے حال پر افسوس ہے
7
جو لوگ زکوِٰادا نہیں کرتے ہیں اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں
8
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے منقطع نہ ہونے والا اجر ہے
9
آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے ساری زمین کو دو دن میں پیدا کردیا ہے اور اس کا مثل قرار دیتے ہوئے جب کہ وہ عالمین کا پالنے والا ہے
10
اور اس نے اس زمین میں اوپر سے پہاڑ قرار دے دیئے ہیںاور برکت رکھ دی ہے اور چار دن کے اندر تمام سامان معیشت کو مقرر کردیا ہے جو تمام طلبگاروں کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہے
11
اس کے بعد اس نے آسمان کا رخ کیا جو بالکل دھواں تھا اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بہ کراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں
12
پھر ان آسمانوں کو دو دن کے اندر سات آسمان بنادیئے اور ہر آسمان میں اس کے معاملہ کی وحی کردی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کردیا ہے اور محفوظ بھی بنادیا ہے کہ یہ خدائے عزیز و علیم کی مقرر کی ہوئی تقدیر ہے
13
پھر اگر یہ اعراض کریں تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تم کو ویسی ہی بجلی کے عذاب سے ڈرایا ہے جیسی قوم عاد و ثمود پر نازل ہوئی تھی
14
جب ان کے پاس سامنے اور پیچھے سے ہمارے نمائندے آئے کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا خدا چاہتا تو ملائکہ کو نازل کرتا ہم تمہارے پیغام کے قبول کرنے والے نہیں ہیں
15
پھر قوم عاد نے زمین میں ناحق بلندی اور برتری سے کام لیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے .... تو کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے وہ بہرحال ان سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہے لیکن یہ لوگ ہماری نشانیوں کا انکار کرنے والے تھے
16
تو ہم نے بھی ان کے اوپر تیزوتند آندھی کو ان کی نحوست کے دنوں میں بھیج دیا تاکہ انہیں زندگانی دنیا میں بھی رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو زیادہ رسوا کن ہے اور وہاں ان کی کوئی مدد بھی نہیں کی جائے گی
17
اور قوم ثمود کو بھی ہم نے ہدایت دی لیکن ان لوگوں نے گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کیا تو ذلّت کے عذاب کی بجلی نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ان اعمال کی بنا پر جو وہ انجام دے رہے تھے
18
اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو ایمان لانے والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے تھے
19
اور جس دن دشمنانِ خدا کو جہّنم کی طرف ڈھکیلا جائے گا پھر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی
20
یہاں تک کہ جب سب جہّنم کے پاس آئیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور جلد سب ان کے اعمال کے بارے میں ان کے خلاف گواہی دیں گے
21
اور وہ اپنے اعضائ سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیسے شہادت دے دی تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اسی خدا نے گویا بنایا ہے جس نے سب کو گویائی عطا کی ہے اور تم کو بھی پہلے دن اسی نے پیدا کیا ہے اور اب بھی پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جاؤ گے
22
اور تم اس بات سے پردہ پوشی نہیں کرتے تھے کہ کہیں تمہارے خلاف تمہارے کان, تمہاری آنکھیں اور گوشت پوست گواہی نہ دے دیں بلکہ تمہارا خیال یہ تھا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال سے باخبر بھی نہیں ہے
23
اور یہی خیال جو تم نے اپنے پروردگار کے بارے میں قائم کیا تھا اسی نے تمہیں ہلاک کردیا ہے اور تم خسارہ والوں میں ہوگئے ہو
24
اب اگر یہ برداشت کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہّنم ہے اور اگر معذرت کرنا چاہیں تو بھی معذرت قبول نہیں کی جائے گی
25
اور ہم نے خود بھی ان کے لئے ہم نشین فراہم کردیئے تھے جنہوں نے اس کے پچھلے تمام امور ان کی نظروں میں آراستہ کردیئے تھے اور ان پر بھی وہی عذاب ثابت ہوگیا جو ان کے پہلے انسان اور جنّات کے گروہوں پر ثابت ہوچکا تھا کہ یہ سب کے سب خسارہ والوں میں تھے
26
اور کفاّر آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز مت سنو اور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ
27
تو اب ہم ان کفر کرنے والوں کو شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور انہیں ان کے اعمال کی بدترین سزادیں گے
28
یہ دشمنانِ خدا کی صحیح سزا جہّنم ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے جو اس بات کی سزا ہے کہ یہ آیات الہیٰہ کا انکار کیا کرتے تھے
29
اور کفاّر یہ فریاد کریں گے کہ پروردگار ہمیں جنّات و انسان کے ان لوگوں کو دکھلادے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے قرار دیدیں اور اس طرح وہ پست لوگوں میں شامل ہوجائیں
30
بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنّت سے مسرور ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے
Sonraki 24 ayet →