2
کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اس بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کا امتحان نہیں ہوگا
3
بیشک ہم نے ان سے پہلے والوں کا بھی امتحان لیا ہے اور اللہ تو بہرحال یہ جاننا چاہتا ہے کہ ان میں کون لوگ سچے ہیں اور کون جھوٹے ہیں
4
کیا برائی کرنے والوں کا خیال یہ ہے کہ ہم سے آگے نکل جائیں گے یہ بہت غلط فیصلہ کررہے ہیں
5
جو بھی اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے معلوم رہے کہ وہ مدّت یقینا آنے والی ہے اور وہ خدا سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے
6
اور جس نے بھی جہاد کیا ہے اس نے اپنے لئے جہاد کیا ہے اور اللہ تو سارے عالمین سے بے نیاز ہے
7
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہم یقینا ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کریں گے اور انہیں ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کریں گے
8
اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کی نصیحت کی ہے اور بتایا ہے کہ اگر وہ کسی ایسی شے کو میرا شریک بنانے پر مجبور کریں جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا کہ تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پھر میں بتاؤں گا کہ تم لوگ کیا کررہے تھے
9
اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا اور نیک اعمال کئے ہم یقینا انہیں نیک بندوں میں شامل کرلیں گے
10
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے اس کے بعد جب راسِ خدا میں کوئی تکلیف ہوئی تو لوگوں کے فتنہ کو عذابِ خدا جیسا قرار دے دیا حالانکہ آپ کے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد آجاتی تو فورا کہہ دیتے کہ ہم تو آپ ہی کے ساتھ تھے تو کیا خدا ان باتوں سے باخبر نہیں ہے جو عالمین کے دلوں میں ہیں
11
اور وہ یقینا انہیں بھی جاننا چاہتا ہے جو صاحبانِ ایمان ہیں اور انہیں بھی جاننا چاہتا ہے جو منافق ہیں
12
اور یہ کفّار ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راستہ کا اتباع کرلو ہم تمہارے گناہوں کے ذمہ دار ہیں حالانکہ وہ کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے نہیں ہیں اور سراسر جھوٹے ہیں
13
اور انہیں ایک دن اپنا بوجھ بھی اٹھانا ہی پڑے گا اور اس کے ساتھ ان لوگوں کا بھی اور روز ه قیامت ان سے ان باتوں کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا جن کا یہ افترا کیا کرتے تھے
14
اور ہم نے نوح علیھ السّلامکو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے پھر قوم کو طوفان نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ وہ لوگ ظالم تھے
15
پھر ہم نے نوح علیھ السّلام کو اور ان کے ساتھ کشتی والوں کو نجات دے دی اور اسے عالمین کے لئے ایک نشانی قرار دے دیا
16
اور ابراہیم کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو کہ اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے اگر تم کچھ جانتے ہو
17
تم خدا کو چھوڑ کر صرف بتوں کی پرستش کرتے ہو اور اپنے پاس سے جھوٹ گڑھتے ہو یاد رکھو کہ خدا کے علاوہ جن کی بھی پرستش کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں رزق خدا کے پاس تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اسی کا شکریہ ادا کرو کہ تم سب اسی کی بارگاہ میں واپس لے جائے جاؤ گے
18
اور اگر تم تکذیب کرو گے تو تم سے پہلے بہت سی قومیں یہ کام کرچکی ہیں اور رسول کی ذمہ داری تو صرف واضح طور پر پیغام کا پہنچا دینا ہے
19
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح مخلوقات کو ایجاد کرتا ہے اور پھر دوبارہ واپس لے جاتا ہے یہ سب اللہ کے لئے بہت آسان ہے
20
آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ خدا نے کس طرح خلقت کا آغاز کیا ہے اس کے بعد وہی آخرت میں دوبارہ ایجاد کرے گا بیشک وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
21
وہ جس پر چاہتا ہے عذاب کرتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے
22
اور تم زمین یا آسمان میں اسے عاجز کرسکنے والے نہیں ہو اور اس کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست یا مددگار بھی نہیں ہے
23
اور جو لوگ خدا کی نشانیوں اور اس کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے مایوس ہیں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
24
تو ان کی قوم کا جواب اس کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ انہیں قتل کردو یا آگ میں جلا دو ...._ تو پروردگار نے انہیں اس آگ سے نجات دلادی بیشک اس میں بھی صاحبان هایمان کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
25
اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے صرف زندگانی دنیا کی محبتوں کو برقرار رکھنے کے لئے خدا کو چھوڑ کر بتوں کو اختیار کرلیا ہے اس کے بعد روز هقیامت تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا جب کہ تم سب کا انجام جہّنم ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا
26
پھر لوط ابراہیم پر ایمان لے آئے اور انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کررہا ہوں کہ وہی صاحب هعزّت اور صاحب حکمت ہے
27
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد عطا کی اور پھر ان کی ذریت میں کتاب اور نبوت قرار دی اور انہیں دنیا میں بھی ان کا اجر عطا کیا اور آخرت میں بھی ان کا شمار نیک کردار لوگوں میں ہوگا
28
اور پھر لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایسی بدکاری کررہے ہو جو سارے عالم میں تم سے پہلے کبھی کسی نے بھی نہیں کی ہے
29
تم لوگ مذِدوں سے جنسی تعلّقات پیدا کررہے ہو اور راستے قطع کررہے ہو اور اپنی محفلوں میں برائیوں کو انجام دے رہے ہو .... تو ان کی قوم کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا کہ اگر تم صادقین میں سے ہو تو وہ عذاب هالٰہی لے آؤ جس کی خبر دے رہے ہو
30
تو لوط نے کہا پروردگار تو اس فساد پھیلانے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما
Sonraki 30 ayet →