2
یہ کتابِ مبین کی آیتیں ہیں
3
ہم آپ کو موسٰی اور فرعون کی سّچی خبر سنارہے ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہیں
4
فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اور اس نے اہلِ زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا کہ ایک گروہ نے دوسرے کو بالکل کمزور بنادیا وہ لڑکوں کو ذبح کردیا کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھا کرتا تھا. وہ یقینا مفسدین میں سے تھا
5
اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں
6
اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو ان ہی کمزوروں کے ہاتھوں سے وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں
7
اور ہم نے مادر موسٰی کی طرف وحی کی کہ اپنے بچّہ کو دودھ پلاؤ اور اس کے بعد جب اس کی زندگی کا خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور بالکل ڈرو نہیں اور پریشان نہ ہو کہ ہم اسے تمہاری طرف پلٹا دینے والے اور اسے مرسلین میں سے قرار دینے والے ہیں
8
پھر فرعون والوںنے اسے اٹھالیا کہ انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث هرنج و الم بنے .بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر والے سب غلطی پر تھے
9
اور فرعون کی زوجہ نے کہا کہ یہ تو ہماری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لہٰذا اسے قتل نہ کرو کہ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہم اسے اپنا فرزند بنالیں اور وہ لوگ کچھ نہیں سمجھ رہے تھے
10
اور موسٰی کی ماں کا دل بالکل خالی ہوگیا کہ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو مطمئن نہ بنادیتے تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں
11
اور انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم بھی ان کا پیچھا کرو تو انہوں نے دور سے موسٰی کو دیکھا جب کہ ان لوگوں کو اس کا احساس بھی نہیں تھا
12
اور ہم نے موسٰی پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ پہلے ہی سے حرام کردیا تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ بتاؤں جو اس کی کفالت کرسکیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں
13
پھر ہم نے موسٰی کو ان کی ماں کی طرف پلٹا دیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اور وہ پریشان نہ رہیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا ّہے اگرچہ لوگوں کی اکثریت اسے نہیں جانتی ہے
14
اور جب موسٰی جوانی کی توانائیوں کو پہنچے اور تندرست ہوگئے تو ہم نے انہیں علم اور حکمت عطا کردی اور ہم اسی طرح نیک عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں
15
اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے
16
موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی لہذا مجھ معاف کردے تو پروردگار نے معاف کردیا کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
17
موسٰی نے کہا کہ پروردگار تونے میری مدد کی ہے لہذا میں کبھی مجرموں کا ساتھی نہیں بنوں گا
18
پھر صبح کے وقت موسٰی شہر میں داخل ہوئے تو خوفزدہ اور حالات کی نگرانی کرتے ہوئے کہ اچانک دیکھا کہ جس نے کل مدد کے لئے پکارا تھا وہ پھر فریاد کررہا ہے موسٰی نے کہا کہ یقینا تو کھنَا ہوا گمراہ ہے
19
پھر جب موسٰی نے چاہا کہ اس پر حملہ آور ہوں جو دونوں کا دشمن ہے تو اس نے کہا کہ موسٰی تم اسی طرح مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک بے گناہ کو قتل کیا ہے تم صرف روئے زمین میں سرکش حاکم بن کر رہنا چاہتے ہو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ تمہارا شمار اصلاح کرنے والوں میں ہو
20
اور ادھر آخ» شہر سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ موسٰی شہر کے بڑے لوگ باہمی مشورہ کررہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں لہذا تم شہر سے باہر نکل جاؤ میں تمہارے لئے نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں
21
تو موسٰی شہر سے باہر نکلے خوفزدہ اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اور کہا کہ پروردگار مجھے ظالم قوم سے محفوظ رکھنا
22
اور جب موسٰی نے مدین کا رخ کیا تو کہا کہ عنقریب پروردگار مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت کردے گا
23
اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں
24
موسٰی نے دونوں کے جانوروں کو پانی پلادیا اور پھر ایک سایہ میں آکر پناہ لے لی عرض کی پروردگار یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے
25
اتنے میں دونوں میں سے ایک لڑکی کمال شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ میرے بابا آپ کو بلارہے ہیں کہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت دے دیں پھر جو موسٰی ان کے پاس آئے اور اپنا قصّہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں اب تم ظالم قوم سے نجات پاگئے
26
ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ بابا آپ انہیں نوکر رکھ لیجئے کہ آپ جسے بھی نوکر رکھنا چاہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہوگا جو صاحبِ قوت بھی ہو اور امانتدار بھی ہو
27
انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا عقد آپ سے کرنا چاہتا ہوں بشرطیکہ آپ آٹھ سال تک میری خدمت کریں پھر اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا اور میں آپ کو کوئی زحمت نہیں دینا چاہتا ہوں انشائ اللہ آپ مجھے نیک بندوں میں سے پائیں گے
28
موسٰی نے کہا کہ یہ میرے اور آپ کے درمیان کا معاہدہ ہے میں جو مدّت بھی پوری کردوں میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور میں جو کچھ بھی کہہ رہاہوں اللہ اس کا گواہ ہے
29
پھر جب موسٰی مدّت کو پورا کرچکے اور اپنے اہل کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے ایک آگ نظر آئی انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ تم لوگ ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید اس میں سے کوئی خبر لے آؤں یا کوئی چنگاری ہی لے آؤں کہ تم لوگ اس سے تاپنے کا کام لے سکو
30
پھر جو اس آگ کے قریب آئے تو وادی کے داہنے رخ سے ایک مبارک مقام پر ایک درخت سے آوز آئی موسٰی میں عالمین کا پالنے والا خدا ہوں
Sonraki 30 ayet →