1
یہ ایک سورہ ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور فرض کیا ہے اور اس میں کھلی ہوئی نشانیاں نازل کی ہیں کہ شاید تم لوگ نصیحت حاصل کرسکو
2
زناکار عورت اور زنا کار مرد دونوں کو سو سوکوڑے لگاؤ اور خبردار دین خدا کے معاملہ میں کسی مروت کا شکار نہ ہوجانا اگر تمہارا ایمان اللہ اور روزآخرت پر ہے اور اس سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے
3
زانی مرد اور زانیہ یا مشرکہ عورت ہی سے نکاح کرے گا اور زانیہ عورت زانی مرد یا مشرک مرد ہی سے نکاح کرے گی کہ یہ صاحبان هایمان پر حرام ہیں
4
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور چار گواہ فراہم نہیں کرتے ہیں انہیں اسیّ کوڑے لگاؤ اور پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرنا کہ یہ لوگ سراسر فاسق ہیں
5
علاوہ ان افراد کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے نفس کی اصلاح کرلیں کہ اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے
6
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے علاوہ کوئی گواہ نہیں ہوتا ہے تو ان کی اپنی گواہی چار گواہیوں کے برابر ہوگی اگر وہ چار مرتبہ قسم کھاکر کہیں کہ وہ سچےّ ہیں
7
اور پانچویں مرتبہ یہ کہیں کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت ہے
8
پھر عورت سے بھی حد برطرف ہوسکتی ہے اگر وہ چار مرتبہ قسم کھاکر یہ کہے کہ یہ مرد جھوٹوں میں سے ہے
9
اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر وہ صادقین میں سے ہے تو مجھ پر خدا کا غضب ہے
10
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور وہ توبہ قبول کرنے والا صاحب هحکمت نہ ہوتا تو اس تہمت کا انجام بہت برا ہوتا
11
بیشک جن لوگوں نے زنا کی تہمت لگائی وہ تم ہی میں سے ایک گروہ تھا تم اسے اپنے حق میں شر نہ سمجھو یہ تمہارے حق میں خیر ہے اور ہر شخص کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جو اس نے خود کمایا ہے اور ان میں سے جس نے بڑا حصہّ لیا ہے اس کے لئے بڑا عذاب ہے
12
آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے اس تہمت کو سناُ تھا تو مومنین و مومنات اپنے بارے میں خیر کا گمان کرتے اور کہتے کہ یہ تو کھلا ہوا بہتان ہے
13
پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ چار گواہ بھی لے آتے اور جب گواہ نہیں لے آئے تو یہ اللہ کے نزدیک بالکل جھوٹے ہیں
14
اور اگر خدا کا فضل دنیا و آخرت میں اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جو چرچا تم نے کیا تھا اس میں تمہیں بہت بڑا عذاب گرفت میں لے لیتا
15
جب تم اپنی زبان سے چرچا کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تمہیں علم بھی نہیں تھا اور تم اسے بہت معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی
16
اور کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب تم لوگوں نے اس بات کو سنا تھا تو کہتے کہ ہمیں ایسی بات کہنے کا کوئی حق نہیں ہے خدایا تو پاک و بے نیاز ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے
17
اللرُتم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہو تو اب ایسی حرکت دوبارہ ہرگز نہ کرنا
18
اور اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے اور وہ صاحبِ علم بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے
19
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صاحبانِ ایمان میں بدکاری کا چرچا پھیل جائے ان کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ سب کچھ جانتا ہے صرف تم نہیں جانتے ہو
20
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی اور وہ شفیق اور مہربان نہ ہوتا
21
ایمان والو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا کہ جو شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا اسے شیطان ہر طرح کی برائی کا حکم دے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی پاکباز نہ ہوتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک و پاکیزہ بنادیتا ہے اور وہ ہر ایک کی سننے والا اور ہر ایک کے حال هه دل کا جاننے والا ہے
22
اور خبردار تم میں سے کوئی شخص بھی جسے خدا نے فضل اور وسعت عطا کی ہے یہ قسم نہ کھالے کہ قرابتداروں اور مسکینوں اور راسِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ کوئی سلوک نہ کرے گا. ہر ایک کو معاف کرنا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے اور اللہ بیشک بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
23
یقینا جو لوگ پاکباز اور بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے عذابِ عظیم ہے
24
قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں سب گواہی دیں گے کہ یہ کیا کررہے تھے
25
اس دن خدا سب کو پورا پورا بدلہ دے گا اور لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا یقینا برحق اور حق کا ظاہر کرنے والا ہے
26
خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں اور خبیث افراد خبیث باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ افراد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں یہ پاکیزہ لوگ خبیث لوگوں کے اتہامات سے پاک و پاکیزہ ہیں اور ان کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے
27
ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحبِ خانہ سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کرلو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے کہ شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرسکو
28
پھر اگر گھر میں کوئی نہ ملے تو اس وقت تک داخل نہ ہونا جب تک اجازت نہ مل جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جانا کہ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ امر ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
29
تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ایسے مکانات میں جو غیر آباد ہیں اور جن میں تمہارا کوئی سامان ہے داخل ہوجاؤ اور اللہ اس کو بھی جانتا ہے جس کا تم اظہار کرتے ہو اور اس کو بھی جانتا ہے جس کی تم پردہ پوشی کرتے ہو
30
اور پیغمبر علیھ السّلام آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں کہ یہی زیادہ پاکیزہ بات ہے اور بیشک اللہ ان کے کاروبار سے خوب باخبر ہے
Sonraki 30 ayet →