3
اور تمہیں کس چیز نے بتایا کہ قیامت کیا ہے
4
ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا تھا
5
سو ثمود تو سخت ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کیے گئے
6
اور لیکن قوم عاد سو وہ ایک سخت آندھی سے ہلاک کیے گئے
7
وہ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار چلتی رہی (اگر تو موجود ہوتا) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا کہ گھری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں
8
سو کیا تمہیں ان کا کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے
9
اور فرعون اس سے پہلے کے لوگ اور الٹی ہوئی بستیوں والے گناہ کے مرتکب ہوئے
10
پس انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو الله نے انہیں سخت پکڑ لیا
11
بے شک ہم نے جب پانی حد سے گزر گیا تھا تو تمہیں کشتی میں سوار کر لیا تھا
12
تاکہ ہم اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنائیں اور اس کو کان یا د رکھنے والے یاد رکھیں
13
پھر جب صور میں پھونکا جائے گا ایک بار پھونکا جانا
14
اور زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے پس وہ دونوں ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے
16
اور آسمان پھٹ جائے گا اوروہ اس دن بودا ہوگا
17
اور اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے اور عرشِ الہیٰ کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
18
اس دن تم پیش کیے جاؤ گے تمہارا کوئی راز مخفی نہ رہے گا
19
جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا سو وہ کہے گا لو میرا اعمال نامہ پڑھو
20
بے شک میں سمجھتا تھا کہ میں اپنا حساب دیکھوں گا
21
سووہ دل پسند عیش میں ہو گا
23
جس کے میوے جھکے ہوں گے
24
کھاؤ اور پیئو ان کاموں کے بدلے میں جو تم نے گزشتہ دنوں میں آگے بھیجے تھے
25
اور جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو کہے گا اے کاش میرا اعمال نامہ نہ ملتا
26
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے
27
کاش وہ (موت) خاتمہ کرنے والی ہوتی
28
میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا
29
مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی
30
اسے پکڑو اسے طوق پہنا دو
Sonraki 22 ayet →